سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 840
۸۴۰ یعنی ” ہر بدی کی سزا اس کے مناسب حال اور اس کی شدت کے مطابق ہونی چاہئے لیکن اگر حالات ایسے ہوں کہ معاف کرنے یا نرمی کرنے سے اصلاح کی امید ہو تو پھر معاف کرنا یا نرمی کرنا بہتر ہے اور ایسا شخص خدا کے نزدیک نیک اجر کا مستحق ہوگا یہ وہ تعلیم ہے جو اسلام نے اس بارے میں دی اور کوئی عقل مند اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ ایک بہترین تعلیم ہے جس میں انسانی ضروریات کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے اور سزا کی صورت میں بھی اسلام نے یہ قید لگا دی ہے کہ وہ مناسب حد سے آگے نہ گزرے اور مثلہ وغیرہ کے وحشیانہ افعال کو یک قلم بند کر دیا گیا۔اس کے مقابل پر مسیحی لوگ باوجود حضرت مسیح ناصری کی اس نمائشی تعلیم کے جو عملی نمونہ دشمنوں کے ساتھ سلوک کا دکھاتے رہے ہیں اور جنگوں میں جن افعال کے مرتکب ہوتے رہے ہیں وہ تاریخ عالم کا ایک کھلا ہوا ورق ہے جس کے اعادہ کی اس جگہ ضرورت نہیں۔