سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 839
۸۳۹ ہوئے حسب عادت اعتراض کیا ہے کہ جس رنگ میں ان قاتل ڈاکوؤں کو قتل کیا گیا وہ ظالمانہ اور وحشیانہ تھا لیکن اگر سارے حالات کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو اس معاملہ میں اسلام کا دامن بالکل پاک نظر آتا ہے کیونکہ در اصل یہ فیصلہ اسلام کا نہیں تھا بلکہ حضرت موسیٰ کا تھا یا جن کی شریعت کو حضرت مسیح ناصری نے منسوخ نہیں کیا بلکہ برقرار رکھا۔ہاں اگر ہمارے معترضین کے پیش نظر حضرت مسیح کا یہ قول ہے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسرا گال بھی سامنے کردو اور اگر کوئی شخص تمہارا کر نہ لینا چاہے تو اسے اپنا چونہ بھی دے دو اور اگر کوئی تمہیں ایک کوس بیگار لے جانا چاہے تو دو کوس چلے جاؤ تو بے شک ہمارے معترضین کو اس اعتراض کا حق ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعلیم کسی عقل مند کے نزدیک قابل عمل ہے اور کیا آج تک ان ساڑھے انیس سو سالوں میں کسی مسیح مرد یا عورت یا کسی مسیحی جماعت یا حکومت نے اس تعلیم پر عمل کیا ہے؟ منبروں پر چڑھ کر وعظ کرنے کے لئے بیشک یہ ایک عمدہ تعلیم ہے مگر عملی دنیا میں اس تعلیم کو کوئی بھی وزن حاصل نہیں اور نہ کوئی عقل مند اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوسکتا ہے۔اس صورت میں اس قسم کے جذباتی کھلونے سامنے رکھ کر مسلمانوں کو اعتراض کا نشانہ بنانا خود اپنی جہالت کا ثبوت دینا ہے۔ہاں حضرت موسی کی تعلیم کو سامنے رکھ کر دیکھو جو بخلاف حضرت مسیح ایک سچے مقئن تھے اور قانون کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے تھے یا مسیحیوں کے قول کو نہیں بلکہ ان کے عملی کارناموں کی روشنی میں حالات کا امتحان کرو تو پھر حقیقت واضح ہوتی ہے کہ عملی میدان میں کوئی مذہب اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہی کرتا ہے اور اس کے کھانے کے دانت اور دکھانے کے دانت الگ الگ نہیں ہیں اور اس کے قول و فعل ہر دو اس اعلیٰ مقام پر فائز ہیں کہ کوئی عقل مند غیر متعصب انسان ان پر اعتراض نہیں کر سکتا بلکہ دل سے اس کی تعریف نکلتی ہے۔نہ تو وہ موسوی شریعت کی طرح یہ کہتا ہے کہ ہر حالت میں انتقام لو اور بلا امتیاز حالات قصاص کا ئبر چلاتے جاؤ اور نہ وہ مسیحی تعلیم کے مطابق یہ ہدایت کرتا ہے کہ کسی حالت میں بھی سزا نہ دو بلکہ اگر مجرم کوئی جرم کرے تو اس کے جرم کے منشا کو اپنی طرف سے مدد کر کے اور بھی مضبوط کر دو بلکہ اسلام افراط و تفریط کے رستے کو چھوڑ کر وہ وسطی تعلیم دیتا ہے جو دنیا میں حقیقی امن کی بنیاد ہے اور وہ یہ کہ : جَزْؤُا سَيِّئَةِ سَيْئَةٌ مِثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ خروج باب ۲۱ آیت ۲۳ تا ۲۵ و احبار باب ۲۴ آیت ۱۹ تا ۲۱ واستثناء باب ۱۹ آیت ۲۱ : متی باب ۵ آیت ۱۷ تا ۱۹ قرآن شریف سورة الشورى : ۴۱ : متی باب ۵ آیت ۳۸ تا ۴۱