سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 819
۸۱۹ اسلام میں قبولیت دعا کا مسئلہ اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ بادل نہیں تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اور بادل آگئے اور بارش ہونے لگی اور پھر جب بارش کی کثرت ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے بند ہونے کی دعا فرمائی اور بادل چھٹ گئے اور مطلع صاف ہو گیا یعنی جب یہ باتیں عام قانون قدرت کے ماتحت ظہور پذیر ہوتی ہیں تو پھر اس معروف و مشہور قانون قدرت کے خلاف یہ بات کیونکر ہوگئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے بادل نمودار ہو گئے اور پھر دعا سے ہی بادلوں نے پھٹ کر سورج کو رستہ دے دیا ؟ سو اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ معاملہ قبولیت دعا کے مسئلہ سے تعلق رکھتا ہے اور یہ مسئلہ ایسا ہے کہ ہر مذہب میں اور ہر زمانہ میں اس مسئلہ کو تسلیم کیا گیا ہے اور کم و بیش ہر قوم کے مذہبی بزرگوں کی زندگی میں قبولیت دعا کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔دراصل یہ مسئلہ اپنے بیشتر پہلوؤں میں معجزات کے مسئلہ کے ساتھ مربوط ہے جس کے متعلق ایک اصولی بحث کتاب کے حصہ دوم کے میں گزر چکی ہے اور ہم اپنے ناظرین سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس نوٹ کے ساتھ کتاب کے حصہ دوم کے متعلقہ اوراق بھی ضرور ملاحظہ فرمالیں۔دعا کا مسئلہ مشاہدہ سے تعلق رکھتا ہے بات یہ ہے کہ ایسے امور میں استدلالی براہین کو زیادہ دخل نہیں ہوتا بلکہ بحث کا مرکزی نقطہ یہ بات قرار پاتی ہے کہ آیا دعا ئیں عملاً قبول ہوتی ہیں یا نہیں اور آیا کوئی بات دعا کے نتیجہ میں عملاً وقوع میں آتی ہے یا نہیں اگر دعا کی قبولیت کا نتیجہ عملاً نظر آجائے اور ایسی صورت میں نظر آئے کہ اس میں کسی قسم کی غلط فہمی کا امکان نہ ہوا اور سمجھدار اور معتبر اور صادق القول لوگوں کی ایک جماعت اس کی شاہد ہو اور پھر مختلف قسم کے حالات میں ایسا مشاہدہ بار بار کے تجربہ سے پایہ ثبوت کو پہنچ جائے تو اس صورت میں کوئی عقل مند انسان اس کے متعلق شبہ نہیں کر سکتا۔جب ہم دوسرے امور میں معتبر لوگوں کی شہادت پر اپنے فیصلہ کی بنیاد ملاحظہ ہو حصہ دوم