سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 818 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 818

ΔΙΑ کر کے خدا سے بارش کی التجا کی جاتی ہے امام ایک چادر کے کونے پکڑ کر اسے اپنی پیٹھ پر ڈالتا ہے اور پھر اسے اس طرح الٹا دیتا ہے کہ چاروں کونے بدل جاتے ہیں جو گویا زبان حال سے اس بات کی استدعا ہوتی ہے کہ خدایا ہم پر یہ تختی کے دن پوری طرح بدل جائیں اور تیری وہ رحمت جو ہر چیز کے پیچھے مخفی ہوتی ہے تکلیف کے ظاہری پہلوؤں کو کلی طور پر دبا کر باہر آ جائے۔بخاری سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک اور موقع پر جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے خطبہ کے لئے منبر پر چڑھے ہوئے تھے ایک صحابی نے موسم کی تختی کا ذکر کر کے عرض کیا کہ 'یا رسول اللہ ! جانور مر رہے ہیں اور سفر کٹھن ہورہے ہیں۔دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ بارش برسائے۔آپ نے اسی وقت دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے اور بارش کے لئے بلند آواز سے دعا فرمائی۔انس بن مالک جو اس روایت کے راوی ہیں اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص خدمت گار تھے بیان کرتے ہیں کہ اس وقت آسمان بالکل صاف تھا لیکن ابھی ہم مسجد میں ہی تھے اور جمعہ سے فراغت نہیں ہوئی تھی کہ ایک طرف سے بادل کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نمودار ہوا اور ہمارے دیکھتے دیکھتے وہ سارے آسمان پر چھا گیا۔اور پھر بارش برسنے لگی اور برابر ایک ہفتہ تک برستی رہی اور اس عرصہ میں ہم نے سورج کی شکل تک نہیں دیکھی ( حالانکہ اس ملک میں ایسی صورت بہت شاذ ہوتی ہے ) پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! بارش نے تو رستے روک دیئے اور چراگاہوں کے غرقاب ہو جانے سے مویشی بھوکے مررہے ہیں دعافرمائیں کہ اب اللہ تعالیٰ اس بارش کے سلسلہ کو روک دے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا۔اور پھر آپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہ : اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا۔الخ یعنی ” خدایا اب ہم پر اس بارش کے سلسلہ کو بند فرما اور دوسری جگہ جہاں ضرورت ہو وہاں برسا۔“ انس کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکلے تو دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ل : بخاری ابواب الاستسقاء باب تحویل الرداء ومشکوۃ باب نماز استسقاء اس تبسم فرمانے میں غالباً اشارہ یہ تھا کہ انسان کسی پہلو سے بھی تسلی نہیں پاتا نیز یہ کہ اللہ کی رحمت کسی خاص چیز میں محصور نہیں بلکہ ہر چیز رحمت بن سکتی ہے اور ہر چیز ہی عذاب کا رنگ اختیار کر سکتی ہے اس لئے ہر وقت خدا سے ڈرنا چاہئے اور خدا سے بہر حال رحمت کو مانگتے رہنا چاہئے۔ے بخاری ابواب الاستسقاء باب الاستسقاء في المسجد الجامع