سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 795
۷۹۵ مٹانے اور ظلم کا طریق اختیار کرنے کے بغیر اس کے اردگرد کے گرے ہوئے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اوپر اٹھانے کے لئے ضروری ہے۔یہ وہ نکتہ ہے جسے سمجھ لینے کے بعد اسلامی مساوات اور اشتراکیت کا مسئلہ خود بخود حل ہو جاتا ہے بشرطیکہ کوئی شخص دیانت داری کے ساتھ اسے سمجھنے کے لئے تیار ہو۔اسلام ایک وسطی نظریہ پیش کرتا ہے ایک اور اصولی بات جو اسلام کے اقتصادی نظام کے متعلق یاد رکھنی چاہئے یہ ہے کہ انسانی زندگی کے متعلق اسلام یہ نظریہ پیش کرتا ہے کہ اس میں ہر وقت ایک جدوجہد کی کیفیت قائم رہنی چاہئے اور درحقیقت زندگی ایک پیہم حرکت اور مسلسل جدوجہد کا ہی نام ہے اور انسان کی ساری ترقی اسی پیہم حرکت اور اسی مسلسل سعی کے ساتھ وابستہ ہے۔پس اسلام کسی ایسے نظام کا موید نہیں ہوسکتا جس میں انسان کو جدو جہد کے میدان سے نکل کر دوسرے کے کمائے ہوئے مال کو بیٹھے بیٹھے کھانے یا دوسرے کے سہارے پر کھڑے ہو کر زندگی گزارنے کا رستہ اختیار کرنا پڑے۔بے شک اسلام بھی انفرادی زندگی کے لئے بعض خارجی سہارے مہیا کرتا اور ان سے واجبی فائدہ اٹھانے کا سامان پیدا کرتا ہے مگر اس کا اصل زور اس بات پر ہے کہ ہر انسان خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہو اور اپنے ہاتھ کی طاقت یا اپنے دماغ کی قوت سے اپنے لئے زندگی کا رستہ بنائے۔وہ خارجی سہاروں کو ایک زائد امدادی حیثیت تو ضرور دیتا ہے مگر صرف انہی پر کامل تکیہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔اسی لئے قرآن شریف ورثہ کے ذریعہ حاصل کئے ہوئے مالوں کو بیٹھ کر کھانے والوں کے متعلق فرماتا ہے: تَأْكُلُونَ التَّرَاثَ أَكلَّا لَمَّانَ وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبَّا جَمَّا یعنی " تم لوگ فارغ بیٹھے ہوئے ورثہ کے مالوں کو کھانا چاہتے ہو اور خواہش رکھتے ہو کہ یہ جمع شدہ مال کبھی ختم نہ ہو اور تم ذخیرہ شدہ مال و دولت سے عشق لگائے بیٹھے ہو۔“ اس لطیف آیت میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ خدائے اسلام کو ایسی زندگی پسند نہیں جو انسان کو جد وجہد اور سعی و عمل کے میدان سے نکال کر کسی خاص کھونٹے کے ساتھ باندھ دے۔کیونکہ اس طرح آہستہ آہستہ انسان کے فطری قوی زنگ آلود ہو کر ضائع ہو جاتے ہیں۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ سرمایہ داری اور اشتراکیت یعنی کمیونزم دونوں انسانوں کو جد و جہد والی زندگی سے نکال کر دوسروں پر تکیہ کر کے بیٹھ جانے کا رستہ کھولتے ہیں یعنی جہاں سرمایہ داری جمع شدہ روپے کا کھونٹا گاڑ کر اس کے ل : سورة الفجر : ۲۱،۲۰