سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 794 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 794

۷۹۴ انے ہیں جن میں کہ روس کا مزدور یا کسان سفر کرتا ہے؟ جب نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر مساوات کہاں رہی؟ صرف فرق یہ ہے کہ کسی نے سرمایہ داری کے رنگ میں ملک کی دولت پر ہاتھ صاف کیا اور کسی نے اشتراکیت کا پردہ کھڑا کر کے خادم ملت کے رنگ میں اپنے لئے خاص مراعات محفوظ کر لیں حالانکہ فطری اور طبعی طریق وہ ہے جو اسلام نے قائم کیا ہے۔یعنی انفرادی حقوق اور انفرادی جدو جہد بھی جاری رہے اور غریبوں کو اوپر اٹھانے اور امیروں کی دولت میں سے ایک حصہ کاٹ کر غریبوں کی ضرورت کو پورا کرنے کا سلسلہ بھی قائم رہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ انتظام بھی قائم ہو کہ قومی اور ملکی دولت نا واجب طور پر چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے محفوظ رہے۔در اصل سارا دھوکا اس بات سے لگا ہے کہ انسانی حقوق کی اقسام پر غور نہیں کیا گیا۔انسانی حقوق دو قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) ایک وہ حقوق ہیں جو حکومت کے ذمہ ہوتے ہیں جیسے کہ مثلاً عدل وانصاف کا قیام یا قومی عہدوں کی تقسیم وغیرہ۔اور (۲) دوسرے وہ حقوق ہیں جو یا تو فطری اور قدرتی رنگ میں حاصل ہوتے ہیں جیسے آسمانی طاقتیں اور دماغی قوی وغیرہ اور یا وہ انفرادی کوشش اور انفرادی جد و جہد کے نتیجہ میں حاصل ہوتے ہیں جیسے دولت یا مکسوب علم وغیرہ۔اسلام نے نہایت حکیمانہ طریق پر ان دونوں قسم کے حقوق میں اصولی فرق ملحوظ رکھا ہے۔یعنی جہاں تک ان انسانی حقوق کا تعلق ہے جو حکومت کے ذمہ ہوتے ہیں اسلام نے جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کامل مساوات قائم کی ہے اور مختلف قوموں اور مختلف انسانوں میں قطعاً کوئی فرق پیدا ہونے نہیں دیا لیکن جہاں دوسری قسم کے حقوق کا دائرہ شروع ہوتا ہے جو فطری قویٰ اور انفرادی جدو جہد سے تعلق رکھتے ہیں وہاں اسلام نے ایک مناسب حد تک دخل دے کر مختلف طبقات اور مختلف افراد کے فرق کو سمونے کی تو ضرور کوشش کی ہے لیکن ظلم و جبر کے رنگ میں سارے فرقوں کو یکسر مٹانے کا طریق اختیار نہیں کیا۔اور حق یہ ہے کہ اس میدان میں سارے فرقوں کو مٹا نا ممکن بھی نہیں ہے۔مثلاً جسمانی طاقتوں کے فرق کو کون مٹا سکتا ہے؟ دماغی قوتوں کے فرق کو کون مٹا سکتا ہے؟ اور جب یہ فرق نہیں مٹائے جاسکتے تو ظاہر ہے کہ ان فرقوں کے طبعی نتائج بھی نہیں مٹائے جا سکتے۔ہاں چونکہ انسان مدنی الاصل صورت میں پیدا کیا گیا ہے اور اس کی فطرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہم جنس لوگوں کے ساتھ مل کر اور جہاں تک ممکن ہو ان کے لئے قربانی کرتے ہوئے زندگی گزارے۔اس لئے اسلام نے یہ ضرور کیا ہے کہ انسان کی انفرادیت کو قائم رکھتے ہوئے اس سے بعض قومی ضرورتوں کے لئے قربانیوں کا مطالبہ کیا ہے اور اس مطالبہ کو اس انتہائی حد تک پہنچا دیا ہے جو ایک انسان کی انفرادیت کو