سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 690
کوششیں کرنے والوں کی تعداد اور طاقت میں اضافہ کر دیں؟ دوسری طرف وہ قوم مدینہ میں بھی نہیں رہنے دی جا سکتی تھی جس نے اس طرح بر ملا طور پر حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا۔ان کا جلا وطن کرنا غیر محفوظ تھا مگر ان کا مدینہ میں رہنا بھی کم خطرناک نہ تھا۔پس اس فیصلہ کے بغیر چارہ نہ تھا کہ ان کے قتل کا حکم دیا جاتا۔“ پھر یہ بات بھی خصوصیت کے ساتھ مد نظر رکھنی چاہئے کہ بنوقریظہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف حلیف اور معاہد ہی نہیں تھے بلکہ وہ اپنے ابتدائی معاہدہ کی رو سے مدینہ میں آپ کی حکومت کو تسلیم کر چکے تھے یا کم از کم آپ کی سوورینیٹی (sovereignty) کو انہوں نے قبول کیا تھا۔پس ان کی حیثیت صرف ایک غدار حلیف یا معمولی دشمن کی نہیں تھی بلکہ وہ یقیناً باغی بھی تھے اور باغی بھی نہایت خطرناک قسم کے باغی اور باغی کی سزا خصوصاً جنگ کے ایام میں سوائے قتل کے کوئی اور نہیں سمجھی گئی۔اگر باغی کو بھی انتہائی سزا نہ دی جاوے تو نظام حکومت بالکل ٹوٹ جاتا ہے اور شریر اور مفسدہ پرداز لوگوں کو ایسی جرات حاصل ہو جاتی ہے جو امن عامہ اور رفاہ عام کے لئے سخت مہلک ثابت ہوتی ہے اور یقیناً ایسے حالات میں باغی پر رحم کرنا دراصل ملک پر اور ملک کے امن پسند لوگوں پر ظلم کے ہم معنی ہوتا ہے۔چنانچہ تمام متمدن حکومتیں اس وقت تک ایسے باغیوں کو خواہ وہ مرد ہوں یا عورت قتل کی سزا دیتی چلی آئی ہیں اور کسی عقلمند انسان نے کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا۔پس سعد کا فیصلہ بالکل منصفانہ اور عدل وانصاف کے قواعد کے بالکل مطابق تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بوجہ اپنے عہد کے اس فیصلہ کے متعلق رحم کے پہلو کو کام میں نہیں لا سکتے تھے سوائے افراد کے اور اس کے لئے آپ نے ہر ممکن کوشش کی مگر معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے اس شرم سے کہ انہوں نے آپ کو حج ماننے سے انکار کر دیا تھا آپ کی طرف رحم کی اپیل کی صورت میں زیادہ رجوع نہیں کیا اور ظاہر ہے کہ بغیر اپیل ہونے کے آپ رحم نہیں کر سکتے تھے کیونکہ جو باغی اپنے جرم پر ندامت کا اظہار بھی نہیں کرتا اسے خود بخود چھوڑ دینا سیاسی طور پر نہایت خطرناک نتائج پیدا کرسکتا ہے۔ایک اور بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ جو معاہدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور یہود کے درمیان ابتدا میں ہوا تھا اس کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر یہود کے متعلق کوئی امر قابل تصفیہ پیدا ہوگا تو اس کا فیصلہ خود انہیں کی شریعت کے ماتحت کیا جائے گا۔چنانچہ تاریخ سے پتا لگتا ہے کہ اس معاہدہ کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یہود کے متعلق شریعت موسوی کے مطابق فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔: محمد مصنفه مارگولیس صفحه ۳۳۳