سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 691 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 691

۶۹۱ اب ہم تو رات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو وہاں اس قسم کے جرم کی سزا جس کے مرتکب بنوقریظہ ہوئے بعینہ وہی لکھی ہوئی پاتے ہیں جو سعد بن معاذ نے بنوقریظہ پر جاری کی۔چنانچہ بائبل میں یہ خدائی حکم درج ہے کہ : اور جب تو کسی شہر کے پاس اس سے لڑنے کے لئے آپہنچے تو پہلے اس سے صلح کا پیغام کر۔تب یوں ہوگا کہ اگر وہ تجھے جواب دے کہ صلح منظور اور دروازہ تیرے لئے کھول دے تو ساری خلق جو اس شہر میں پائی جاوے تیری خراج گزار ہوگی اور تیری خدمت کرے گی اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے جنگ کرے تو اس کا محاصرہ کر اور جب خداوند تیرا خدا اسے تیرے قبضے میں کر دیوے تو وہاں کے ہر ایک مرد کو تلوار کی دھار سے قتل کر مگر عورتوں اور لڑکوں اور مواشی کو اور جو کچھ اس شہر میں ہو اس کا سارا لوٹ اپنے لئے لے لے یہودی شریعت کا یہ حکم محض ایک کاغذی حکم نہیں تھا جس پر کبھی عمل نہ کیا گیا ہو بلکہ بنواسرائیل کا ہمیشہ اسی پر عمل رہا ہے اور یہودی قضیئے ہمیشہ اسی اصل کے ماتحت تصفیہ پاتے رہے ہیں۔چنانچہ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو :۔” اور انہوں نے (یعنی بنو اسرائیل نے ) مدیا نیوں سے لڑائی کی جیسا خداوند نے موسیٰ کو فرمایا تھا اور سارے مردوں کو قتل کیا اور انہوں نے ان مقتولوں کے سواعوتی اور رقم اور صور اور حور اور ربع کو جو مدیان کے پانچ بادشاہ تھے جان سے مارا اور باعود کے بیٹے بلعام کو بھی تلوار سے قتل کیا اور بنی اسرائیل نے مدیان کی عورتوں اور ان کے بچوں کو اسیر کیا اور ان کے مواشی اور بھیڑ بکری اور مال و اسباب سب کچھ لوٹ لیا۔اور انہوں نے سارا مال غنیمت اور سارے اسیر انسان اور حیوان لئے اور وے قیدی اور غنیمت اور لوٹ موسیٰ اور الیعزر کا ہن اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت کے پاس خیمہ گاہ میں موآب کے میدانوں میں سیر دن کے کنارے جوبر بجو کے مقابل ہے، لائے۔۔حضرت مسیح ناصری کو ( جو وہ بھی بنواسرائیل میں سے ہی تھے ) گوا اپنی زندگی میں حکومت نصیب نہیں ہوئی اور نہ جنگ وجدال کے موقعے پیش آئے جن میں ان کا طریق عمل ظاہر ہوسکتا مگر ان کے بعض فقروں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ شریر اور بد باطن دشمنوں کے متعلق ان کے کیا خیالات تھے۔چنانچہ اپنے دشمنوں 2: استثناء باب ۲۰ آیت ۱۰ تا ۱۵ : گنتی باب ۳۱۔آیت ۷ تا ۱۲