سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 672
۶۷۲ نقصان تھا۔کفار کے لشکر میں سے صرف تین آدمی قتل ہوئے لیکن اس جنگ میں قریش کو کچھ ایسا دھکا لگا کہ اس کے بعد ان کو پھر کبھی مسلمانوں کے خلاف اس طرح جتھہ بنا کر نکلنے یامدینہ پر حملہ آور ہونے کی ہمت نہیں ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی۔لشکر کفار کے چلے جانے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کو واپسی کا حکم دیا اور مسلمان میدان کارزار سے اٹھ کر مدینہ میں داخل ہو گئے لیکن ابھی آپ اپنے گھر میں پہنچے ہی تھے کہ بنو قریظہ کے ساتھ لڑائی کی صورت پیدا ہو گئی اور بغیر اس کے کہ آپ مدینہ میں ایک رات بھی آرام کی گزار سکیں آپ کو ان کے مقابلہ کے لئے گھر سے نکلنا پڑا مگر اس کی تفصیل آگے آتی ہے۔جنگ خندق یا احزاب جو اس طرح غیر متوقع اور نا گہانی طور پر اختتام کو پہنچی ایک نہایت ہی خطر ناک جنگ تھی۔اس سے بڑھ کر کوئی ہنگامی مصیبت اس وقت تک مسلمانوں پر نہیں آئی تھی اور نہ ہی اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کوئی اتنی بڑی مصیبت ان پر آئی۔یہ ایک خطر ناک زلزلہ تھا جس نے اسلام کی عمارت کو جڑ سے ہلا دیا اور جس کے مہیب مناظر کو دیکھ کر مسلمانوں کی آنکھیں پتھرا گئیں اور ان کے کلیجے منہ کو آنے لگ گئے اور کمزور لوگوں نے سمجھ لیا کہ بس اب خاتمہ ہے اور اس خطرناک زلزلے کے دھکے کم و بیش ایک ماہ تک ان پر آتے رہے اور کئی ہزار خونخوار درندوں نے ان کے گھروں کا محاصرہ کر کے ان کی زندگیوں کو تلخ کئے رکھا اور اس مصیبت کی تلخی کو بنو قریظہ کی غداری نے دگنا کر دیا اور اس سارے فتنہ کی تہ میں بنو نضیر کے وہ محسن کش یہودی تھے جن پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کر کے ان کو مدینہ سے امن وامان کے ساتھ نکل جانے کی اجازت دے دی تھی۔یہ انہی یہودی رؤساء کی اشتعال انگیزی تھی جس سے صحرائے عرب کے تمام نامور قبیلے عداوت اسلام کے نشے میں مخمور ہوکر مسلمانوں کو ملیا میٹ کرنے کے لئے مدینہ پر جمع ہو گئے تھے اور یہ قطعی طور پر یقینی ہے کہ اگر اس وقت ان وحشی درندوں کو شہر میں داخل ہو جانے کا موقع مل جاتا تو ایک واحد مسلمان بھی زندہ نہ بچتا اور کسی پاکباز مسلم خاتون کی عزت ان لوگوں کے ناپاک حملوں سے محفوظ نہ رہتی۔مگر یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی قدرت کا غیبی ہاتھ تھا کہ اس ٹڈی دل کو بے نیل مرام واپس ہونا پڑا۔اور مسلمان شکر وامتنان کے ساتھ امن واطمینان کا سانس لیتے ہوئے اپنے گھروں میں واپس آگئے۔مگر بنو قریظہ کا خطرہ ابھی تک اسی طرح قائم تھا۔یہ لوگ نہایت خطرناک صورت میں اپنی غداری کا مظاہرہ کر کے اب امن وامان کے ساتھ اپنے قلعوں میں محفوظ ہو گئے تھے اور سمجھتے تھے کہ اب کوئی شخص ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا