سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 601
۶۰۱ کوئی وجہ نہیں تھی کہ نزول کی ترتیب کو ترک کر کے کوئی اور ترتیب اختیار کی جاتی۔مثلاً ایک ہال میں چند آدمی یکے بعد دیگرے داخل ہوتے ہیں۔اب اگر ہال کا منتظم ان آدمیوں کے متعلق خاص اہتمام کے ساتھ یہ انتظام کرتا ہے کہ وہ داخل ہونے کی ترتیب سے نہ بیٹھیں بلکہ انہیں کسی اور ترتیب کے ساتھ بٹھا تا ہے تو اس کا یہی فعل اس بات کی دلیل ہو گا کہ خواہ اس کا اصول ترتیب کسی کو معلوم ہو یا نہ ہومگر اس کے مدنظر کوئی نہ کوئی اصول ضرور ہے۔ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ داخلہ کی ترتیب کو تبدیل کیا جا تا۔کیونکہ کوئی ہوش وحواس رکھنے والا انسان یونہی لغو طور پر بلا وجہ کوئی کام نہیں کرتا۔اس موقع پر اکثر یورپین محققین یہ کہا کرتے ہیں کہ ہال کے منتظم نے داخلہ کی ترتیب کو بدل کر سائزنگ کے اصول پر لوگوں کو بٹھا دیا ہے۔یعنی قرآنی سورتوں کو ان کی لمبائی کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے۔مگر یہ ایک سراسر بے بنیاد اور غلط خیال ہے۔کیونکہ اول تو ہم اوپر ثابت کر چکے ہیں کہ جمع و ترتیب کا کام خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدائی تفہیم کے ماتحت سرانجام دیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے انسان کی طرف اس قسم کا عبث فعل کبھی بھی منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ایسا فعل وہی شخص کر سکتا ہے جو عقل وخرد سے بالکل عاری ہو۔نزول کی ترتیب جس سے کم از کم بعض تاریخی فوائد کے حصول میں آسانی ہو سکتی تھی اسے محض اس وجہ سے ترک کرنا کہ قرآنی سورتیں لمبے اور چھوٹے ہونے کے لحاظ سے ترتیب دی جاسکیں جس میں کوئی بھی علمی فائدہ متصور نہیں ہے، ایک ایسا فعل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو در کنار ایک معمولی عقل کا آدمی بھی اس کا مرتکب نہیں ہو سکتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تو اس سے بہت بالا وارفع ہے۔دوسرے سورتوں کا وجود ہی جس کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوا ہے کسی ترتیب کا نتیجہ ہے کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں قرآن شریف سورتوں کی صورت میں نازل نہیں ہوا بلکہ آیات کی صورت میں بہت آہستہ آہستہ نازل ہوا ہے اور سورتیں آیات کے جمع ہونے سے عالم وجود میں آئی ہیں۔علاوہ ازیں یہ بات عملاً بھی بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے کہ قرآن میں سورتوں کے لمبا چھوٹا ہونے کی ترتیب مد نظر رکھی گئی ہے اور قرآنی سورتوں کی آیات کی تعداد کا ایک سرسری مطالعہ بھی اس کی تردید کے لئے کافی ہے کیونکہ بیسیوں مثالیں ایسی ہیں کہ بعض لمبی سورتیں ہیں جو پیچھے رکھی گئی ہیں اور بعض چھوٹی سورتیں ہیں جو پہلے آگئی ہیں اور نہ معلوم مغربی محققین اس معاملہ میں اس قدر کوتاہ نظری اور فاش غلطی کے مرتکب کس طرح ہوئے ہیں۔الغرض اس بات میں ہر گز کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ اوّل قرآن شریف کی موجودہ ترتیب اس