سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 600
۶۰۰ سے آگے مزید اشاعت ہوتی گئی لیے علاوہ ازیں ہر زمانہ میں ہزاروں بلکہ لاکھوں حفاظ نے قرآن کریم کو اپنے سینوں میں لفظ بلفظ محفوظ کر کے اس کی حفاظت کا ایک مزید ظاہری سبب مہیا کیا۔اس بات کا اندازہ کرنے کے لئے کہ مسلمانوں کو قرآن شریف کے حفظ کرنے کا کس قدر شوق رہا ہے صرف یہ روایت کافی ہے کہ جب ایک دفعہ کسی غرض سے حضرت عمرؓ کو قرآن کے حفاظ کے پتہ لینے کی ضرورت پیش آئی تو معلوم ہوا کہ اس وقت کی اسلامی افواج کے صرف ایک دستہ میں تین سو سے زائد حافظ قرآن تھے۔کہے موجودہ زمانہ میں بھی جبکہ لوگوں میں دین کا شوق بہت کم ہو گیا ہے اسلامی دنیا میں حفاظ قرآن کی تعداد یقین لا کھوں سے کم نہیں ہوگی۔ترتیب قرآن یہ سوال کہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب کسی اصول پر قائم ہے یا نہیں ؟ اور اگر ہے تو کس پر ؟ تاریخ سے تعلق نہیں رکھتا اور نہ ہی ایک تاریخی تصنیف میں اس قسم کے سوال کا تشریحی جواب دیا جاسکتا ہے مگر اس جگہ اس کے متعلق ایک مختصر سا اشارہ کر دینا غالبا بے سود نہ ہوگا۔سو جاننا چاہئے کہ جیسا کہ دوست و دشمن میں مسلّم ہے اور تاریخ وحدیث اس کے حوالوں سے بھری پڑی ہیں کہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب اس کے نزول کی ترتیب کے مطابق نہیں ہے بلکہ وہ ایک جدا گانہ ترتیب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود خدائی تفہیم کے مطابق مقرر فرمائی تھی۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَہ کے یعنی ” قرآن کا جمع کرنا خود ہمارے ذمہ ہے اور ہم ہی اس کام کو سر انجام دیں گے۔اور ظاہر ہے کہ جمع قرآن کا کام خصوصاً جبکہ اسے نزول کی ترتیب سے ہٹا کر دوسری ترتیب میں جمع کیا گیا ہو ترتیب کے ساتھ لازم و ملزوم کے طور پر ہے اور جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے حدیث میں تو صراحت کے ساتھ ذکر آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر آیت کے نزول پر اور ہر سورۃ کے مکمل ہونے پر خود ہدایت فرماتے تھے کہ اس آیت یا سورۃ کو فلاں جگہ رکھو۔" اندریں حالات خواہ کسی شخص کو موجودہ قرآنی ترتیب سمجھ میں آئے یا نہ آئے اس بات میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن میں کوئی نہ کوئی اصول ترتیب ضرور مقصود ہے۔دراصل غور کیا جاوے تواصل نزول کی ترتیب کو چھوڑ نا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ نئی ترتیب میں کوئی نہ کوئی اصول ضرور مد نظر رکھا گیا ہے۔ورنہ بخاری کتاب فضائل قرآن باب جمع القرآن و فتح الباری جلد ۹ صفحه ۱۸،۱۷ کنز العمال باب في القرآن فضل في فضائل القرآن ابوداؤ د واحمد بحوالہ فتح الباری جلد ۹ صفحه ۲۰،۱۹ صفحه ۳۹ سورۃ قیامة: ۱۸