سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 577
۵۷۷ سکے۔لہذا یہ خیال کرتے ہوئے کہ اگر بنو لحیان کے خلاف کوئی فوجی دستہ روانہ کیا گیا تو غریب مسلمانوں کے واسطے موجب تکلیف ہونے کے علاوہ ممکن ہے کہ یہ طریق ملک میں زیادہ کشت وخون کا دروازہ کھول دے۔آپ نے یہ تجویز فرمائی کہ کوئی ایک شخص چلا جائے اور موقع پا کر اس فتنہ کے بانی مبانی اور اس شرارت کی جڑ سفیان بن خالد کو قتل کر دے۔چنانچہ آپ نے اس غرض سے عبداللہ بن انیس انصاری کو روانہ فرمایا۔اور چونکہ عبداللہ نے کبھی سفیان کو دیکھا نہیں تھا اس لئے آپ نے خودان کو سفیان کا سارا حلیہ وغیرہ سمجھا دیا اور آخر میں فرمایا کہ ہوشیار رہنا، سفیان ایک مجسم شیطان ہے۔چنانچہ عبداللہ بن انیس نہایت ہوشیاری کے ساتھ بنو لحیان کے کیمپ میں پہنچے ( جو واقعی مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری میں بڑی سرگرمی سے مصروف تھے ) اور رات کے وقت موقع پاکر سفیان کا خاتمہ کر دیا۔بنو لحیان کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے عبد اللہ کا تعاقب کیا مگر وہ چھپتے چھپاتے ہوئے بیچ کر نکل آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب عبداللہ بن انیس آئے تو آپ نے ان کی شکل دیکھتے ہی پہچان لیا کہ وہ کامیاب ہو کر آئے ہیں۔چنانچہ آپ نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا افلَحَ الْوَجْهُ یہ چہرہ تو با مرا دنظر آتا ہے۔عبداللہ نے عرض کیا اور کیا خوب عرض کیا ”أَفْلَحَ وَجْهُكَ يَارَسُوْلَ اللهِ “ یارسول اللہ سب کامیابی آپ کی ہے۔“‘اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کا عصا عبداللہ کو بطور انعام کے عطا فر مایا اور فرمایا یہ عصا تمہیں جنت میں ٹیک لگانے کا کام دے گا۔عبداللہ نے یہ مبارک عصا نہایت محبت واخلاص کے ساتھ اپنے پاس رکھا اور مرتے ہوئے وصیت کی کہ اسے ان کے ساتھ دفن کر دیا جائے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خوشی سے جس کا اظہار آپ نے عبداللہ کی بامراد واپسی پر فرمایا اور اس انعام سے جو انہیں غیر معمولی طور پر عطا فرمایا پتہ لگتا ہے کہ آپ سفیان بن خالد کی فتنہ انگیزی کو نہایت خطر ناک خیال فرماتے تھے اور اس کے قتل کو امن عامہ کے لئے ایک موجب رحمت سمجھتے تھے۔کفار کی غداری اور واقعہ رجمیع صفر ۴ ہجری یہ دن مسلمانوں کے لئے سخت خطرہ کے دن تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چاروں طرف ابن سعد وزرقانی " : سفیان بن خالد کے قتل کا واقعہ ابن ہشام میں بھی ہے، مگر ابن ہشام نے اسے تاریخ کی تعین کے بغیر اپنی سیرۃ کے آخر میں بیان کیا ہے نیز ابن ہشام نے مقتول کا نام بجائے سفیان بن خالد کے خالد بن سفیان لکھا ہے باقی تفصیل عملاً وہی ہے دیکھوا بن ہشام جلد ۳ صفحه ۸۳