سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 509 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 509

دنیا کے کسی معیار کے مطابق ہی جج کیا جاوے ایک بے بنیاد اور ظالمانہ فعل نہیں سمجھا جاسکتا اور پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ اشتعال انگیزی کا وہ طریق جو ہجو کے اشعار کی صورت میں اختیار کیا گیا وہ عرب جیسے ملک میں دوسرے ممالک کی نسبت بہت زیادہ خطرناک نتائج پیدا کر سکتا تھا۔اور یہ بات کہ صرف مجرموں کو ہی قتل کیا گیا عرب کے رائج الوقت دستور پر ایک بہت بڑی اصلاح تھی۔کیونکہ عربوں میں اشتعال انگیز اشعار کی وجہ سے صرف افراد تک معاملہ محدود نہیں رہتا تھا بلکہ سالم کے سالم قبائل میں خطر ناک جنگ کی آگ مشتعل ہو جایا کرتی تھی۔اس کی جگہ اسلام میں یہ صیح اصول قائم کیا گیا کہ مُجرم کی سزا صرف مجرم کو ہونی چاہیئے نہ کہ ،، اس کے عزیز واقارب کو بھی۔مسٹر مار گولیس کو اگر ان قتلوں کے متعلق کوئی اعتراض ہے، تو اس طریق کی وجہ سے ہے جو اختیار کیا گیا یعنی یہ کہ کیوں نہ ان کے جرم کا باقاعدہ اعلان کر کے انہیں باضابطہ طور پر قتل کی سزا دی گئی۔سواس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ اگر ان واقعات کو درست بھی سمجھا جاوے تو وہ بعض مسلمانوں کے محض انفرادی فعل تھے جوان سے سخت اشتعال کی حالت میں سرزد ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حکم نہیں دیا تھا جیسا کہ ابن سعد کے بیان سے یقینی طور پر پایا جاتا ہے۔دوسرے اگر بالفرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہی سمجھا جاوے تو پھر بھی یقیناً اس زمانہ کے حالات ایسے تھے کہ اگر عصماء اور ابو عفک کے قتل کے متعلق با قاعدہ طور پر ضابطہ کا طریق اختیار کیا جاتا اور مقتولین کے متعلقین کو پیش از وقت اطلاع ہو جاتی کہ ہمارے آدمی قتل کئے جائیں گے تو اس کے نتائج بہت خطرناک ہو سکتے تھے اور اس بات کا سخت اندیشہ تھا کہ یہ واقعات مسلمانوں اور یہودیوں اور نیز مسلمانوں اور مشرکین مدینہ کے درمیان ایک وسیع جنگ کی آگ مشتعل کر دیتے۔تعجب ہے کہ مسٹر مار گولیس نے جہاں محض قتل کے فعل کو عرب کے مخصوص حالات کے ماتحت جائز قرار دیا ہے وہاں طریقہ قتل کے متعلق ان کی نظر اس زمانہ کے مخصوص حالات تک کیوں نہیں پہنچی۔اگر وہ اس پہلو میں بھی اس وقت کے حالات کو مدنظر رکھتے تو غالباً انہیں یقین ہو جاتا کہ جو طریق اختیار کیا گیا وہی اس وقت کے حالات اور امن عامہ کے مفاد کے لیے مناسب اور ضروری تھا لیکن اس کے متعلق زیادہ تفصیلی بحث ہم انشاء اللہ کعب بن اشرف کے قتل کے بیان میں ل : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مصنفہ مارگولیس صفحه ۲۷۸ ، ۲۷۹ : ابن سعد جلد ۳ صفحه ۱۸ ، ۱۹