سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 495 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 495

۴۹۵ ہے کہ دینی پہلو کو ترجیح دی جاوے اور دین سے صرف عورت کی ذاتی دینی یا اخلاقی حالت مراد نہیں ہے اور نہ دین کا لفظ عربی زبان میں محض مذہب اور عقیدہ کے معنوں میں آتا ہے بلکہ جیسا کہ عربی کی مشہور لغت اقرب الموارد میں تشریح کی گئی ہے دین کا لفظ عربی زبان میں مندرجہ ذیل معانی کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اول اخلاق و عادات، دوم روحانی پاکیزگی اور طہارت، سوم مذہب، چهارم قوم وملت ، پنجم سیاست وحکومت۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ عورت کے انتخاب میں دینی پہلو کو ترجیح دی جاوے اس میں جہاں یہ مراد ہے کہ بیوی ایسی ہونی چاہئے جو ذاتی طور پر اخلاق و عادات اور تقویٰ وطہارت اور مذہب و عقیدہ میں اچھی ہوتا کہ خاوند اور بیوی کے تعلقات بھی اچھے رہیں اور آئندہ اولاد پر بھی اچھا اثر پڑے، وہاں یہ بھی مراد ہے کہ بیوی کے انتخاب میں وہ عام دینی پہلو بھی جو مصالح مذہب اور مصالح قوم وملت اور مصالح سیاست و حکومت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اپنے اپنے موقع پر مد نظر رہنے چاہئیں اور اگر اس جگہ کسی کو یہ شبہ گذرے کہ گولغوی طور پر یہ سب معانی درست ہوں مگر یہ کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ایک ہی لفظ میں ایک ہی وقت میں اتنے معانی مراد ہوں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مُقنن نبی تھے۔آپ کا کلام قانونی کلام کا رنگ رکھتا تھا جو ہمیشہ جامع المعانی اور وسیع المفہوم ہوتا ہے اور اس کے ایک ایک لفظ میں کئی کئی پہلو مد نظر ہوتے ہیں اور اسی روشنی میں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے معنے کرنے چاہئیں اور بہر حال جب لغوی طور پر یہ معانی درست ہیں تو کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ اسلام نے نکاح کی اغراض چار اور تعدد ازدواج کی اغراض سات بیان کی ہیں اور ان اغراض کے بہترین حصول کے لیے بیوی کے انتخاب کے متعلق یہ ہدایت دی ہے کہ اس میں عورت کی ذاتی خوبی کے علاوہ مصالح مذہب اور مصالح قوم وملت اور مصالح سیاست و حکومت کو ترجیح دینی چاہیئے۔اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نکاح کے معاملہ میں اور خوبیوں کو نہ دیکھا جاوے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے مسلمانوں کو عورت کی دوسری خوبیوں کے مد نظر رکھنے کی بھی اجازت دی ہے بلکہ بعض اوقات خود اس کی تحریک فرمائی ہے کہ دوسری باتوں کو بھی دیکھ لیا کرو۔چنانچہ با وجود پردہ کے احکام کے آپ یہ تحریک فرماتے تھے کہ نکاح سے پہلے مرد کو چاہئے کہ عورت کو خود دیکھ لے یا تا کہ بعد میں شکل وصورت کی ناپسندیدگی کی وجہ سے اس کی طبیعت میں کسی قسم کا تکدر نہ پیدا 1 : ترمذی ابواب النکاح