سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 28
۲۸ لیے مسلمان مؤرخین میں سے جو لوگ زیادہ محقق گذرے ہیں انہوں نے سیرۃ و تاریخ کے واقعات کے لئے ان روایات کو ترجیح دی ہے جو دینی مسائل کے ضمن میں کتب حدیث میں مروی ہوتی ہیں۔اور مصنف کتاب ہذا کا بھی اس تصنیف میں یہی مسلک رہا ہے۔کتب اصول حدیث روایت کا جو علم مسلمانوں نے ایجاد کیا جس کے اندر اصول روایت و درایت دونوں شامل ہیں وہ عموماً علم اصولِ حدیث کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔اس علم کے متعلق بہت سی تصنیفات پائی جاتی ہیں جن میں متقدمین اور متاخرین ہر دو کی تصانیف شامل ہیں مگر آجکل جو کتب اس فن میں زیادہ معروف و متداول ہیں جن میں اکثر متقدمین کی تحریرات کا خلاصہ آگیا ہے وہ یہ ہیں : -1 -۲ علوم الحديث المعروف بمقد مہ ابن صلاح مصنفہ حافظ ابو عمر و عثمان بن عبدالرحمن المعروف بابن صلاح المتوفی ۶۴۳ ھ۔فتح المغيث فی اصول الحدیث مصنفہ حافظ زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی المتوفی ۸۰۵ ھ۔شرح الفیة العراقی فی اصول الحدیث مصنفہ محمد بن عبد الرحمن السخاوی المتوفی ۹۰۲ھ۔موضوعات کبیر مصنفہ نورالدین ملا علی بن محمد سلطان القاری المتوفی ۱۰۱۶ھ۔ان کتب میں روایت و درایت ہر دو کے اصول پوری شرح وبسط کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں اور ہر پہلو کے متعلق متعدد مثالیں دے دے کر بات کو واضح کیا گیا ہے۔مؤخر الذکر کتاب حقیقہ موضوع روایتوں کے بیان میں ہے مگر ضمنا اصولِ حدیث کی بحث بھی آ جاتی ہے۔مصطلحات حدیث فن اصول حدیث یا علم روایت کے ضمنی علوم میں دو علم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اعنی علم مصطلحات حدیث اور علم اسماء الرجال۔مقدم الذکر علم میں حدیث کی اصطلاحات کا بیان ہوتا ہے جن سے یہ پتہ لگتا ہے کہ مختلف اعتبار سے حدیث کی کتنی قسمیں ہیں اور ان کے کیا کیا نام ہیں اور ہر حدیث کی ایک قسم دوسری اقسام کے مقابل پر کیا وزن رکھتی ہے اس علم کے ماتحت حدیث کی جو اقسام مختلف جہات سے مقرر کی گئی ہیں ، اُن میں سے زیادہ معروف یہ ہیں: متواتر۔مشہور۔عزیز۔شاذ۔منکر صحیح۔حسن۔ضعیف۔متروک۔موضوع۔مرفوع۔موقوف۔مقطوع۔متصل۔منقطع۔معلق۔مرسل۔معضل۔معلل - مدلس۔مضطرب۔مدرج - قولی فعلی۔تقریری۔قدسی وغیرہ وغیرہ۔