سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 27
۲۷ جیسے سیرۃ مغازی وغیرہ اُن میں اپنے معیار کو نرم رکھنا چاہئے ، کیونکہ ان امور میں ہم ایسی روایتوں کو بھی قبول کر سکتے ہیں جنہیں دینی اور فقہی احکام کے معاملہ میں قبول نہیں کر سکتے۔“ امام احمد بن حنبل نے اس اصول کی تشریح میں ایک لطیف مثال بھی بیان کی ہے؛ چنانچہ فرماتے ہیں: إِبْنُ إِسْحَاقَ رَجُلٌ نَكْتُبُ عَنْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ يَعْنِي الْمَغَازِي وَنَحْوَهَا وَ إِذَا جَاءَ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ أَرَدْنَا قَوْمًا هَكَذَاوَ قَبِضَ أَصَابِعَ يَدَيْهِ الْأَرْبَعِ یعنی ابن اسحاق صاحب سیرۃ و مغازی بے شک اس رتبہ کے آدمی ہیں کہ ہمیں ان سے سيرة و تاریخ میں روایت لیتے ہوئے تامل نہیں ہونا چاہئے ،لیکن جب حلال وحرام کے مسائل کا سوال ہو تو ہمیں ایسے آدمی چاہئیں۔یہ کہہ کر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی چار انگلیاں مضبوطی کے ساتھ ملا کر باہم جفت کرلیں۔جس سے مراد یہ تھی کہ حدیث میں ایسے راوی درکار ہیں جن میں کوئی رخنہ نہ نکالا جا سکے۔“ الغرض حدیث وسیرۃ کی روایتوں کے معیار میں ہمیشہ سے ایک اصولی فرق مد نظر رکھا گیا ہے اور یہی ہونا چاہئے تھا، کیونکہ حدیث میں جس کی روایت نے دین کی بنیاد بنا تھا سخت معیار رکھنا ضروری تھا تا کہ کوئی کمز ور روایت حدیث کے ذخیرہ میں راہ پا کر دینی فتنہ کا باعث نہ بنے، لیکن سیرۃ و تاریخ میں یہ پہلوایا خطر ناک نہیں تھا۔بلکہ سیرۃ و تاریخ میں زیادہ قابل توجہ یہ بات تھی کہ اساسی مواد جمع ہو جائے جس میں بعد میں اصول مقررہ کے ماتحت چھان بین کی جاسکے۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی کتب حدیث کا روایتی پہلو کتب سيرة ومغازی وغیرہ کی نسبت بہت زیادہ مضبوط اور بلند سمجھا گیا ہے۔مگر یہ کوئی نقص نہیں ہے بلکہ ایسا ہی ہونا چاہئے تھا تا کہ جہاں ایک طرف دین کو فتنہ و اختلاف سے بچایا جاتا وہاں تاریخ میں جامعیت قائم رہتی۔خوب سوچ لو کہ تاریخ کے لئے یہی پالیسی مناسب تھی۔سوائے اس کے کہ کوئی روایت بالبداہت غلط اور باطل ہو ہر وہ روایت لے لی جاوے تا کہ بعد کی تحقیق اور ریسرچ کے لئے ایک بنیادی ذخیرہ محفوظ ہو جائے مگر حدیث کے لئے یہ پالیسی سخت نقصان دہ تھی، کیونکہ اس کے لئے ضروری تھا کہ معیار کو ایسا سخت رکھا جائے کہ خواہ کوئی مضبوط روایت گر جائے مگر بہر حال جو حدیث لی جائے وہ پختہ اور قابلِ اعتماد ہو۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ احادیث کا سارا مجموعہ غلطی سے پاک ہے یا یہ کہ سیرت و تاریخ کا مجموعہ کمزور روایات پر مبنی ہے بلکہ غرض صرف یہ ہے کہ بالعموم حدیث کا معیار سیرۃ و تاریخ سے بالا و بلند ہے۔اور اسی : فتح المغيث صفحہ ۱۳۰