سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 387 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 387

۳۸۷ چھوڑ دی جاتی تو (اس وقت ظاہری اسباب کے لحاظ سے تمہاری حالت ایسی کمزور تھی کہ ) تم ضرور اس میں اختلاف کرتے ( یعنی گوتم میں سے بعض یہ کہتے کہ ہم ہر حالت میں لڑنے کو تیار ہیں لیکن ضرور اس بات پر زور دیتے کہ لڑائی کے وقت کو پیچھے ڈال دیا جاوے تا کہ وہ کفار کے مقابلہ کے لیے اچھی طرح مضبوط ہو جائیں تو پھر لڑائی کے لیے ان کے سامنے آئیں ) لیکن اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ تمہیں لشکر قریش کے مقابلہ پر لا کر ) وہ کام کر گزرے جس کا فیصلہ پہلے سے ہو چکا تھا ( یعنی وہ پیشگوئی پوری کرے جو خدائی نشان کے طور پر ائمۃ الکفر کی ہلاکت کے متعلق کی گئی تھی پھر وہ وقت بھی یاد کرو جب میدان جنگ میں اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھوں میں کفار کو تھوڑا کر کے دکھاتا تھا ( تاکہ تم بد دل نہ ہو ) اور تمہیں کفار کی نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا ( تا کہ وہ بھی مقابلہ سے پیچھے نہ ہٹ جائیں) یہ بھی خدا نے اس لیے کیا کہ وہ اس بات کو کر گزرے جس کا پہلے سے فیصلہ ہو چکا تھا اور بیشک اللہ ہی کی طرف ہر کام کا مال ہے ( یعنی تمام کاموں کا انتہائی تصرف اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ جس طرح چاہے واقعات کو چلا سکتا ہے۔) ان قرآنی آیات سے جو مسلمہ طور پر جنگ بدر کے متعلق تسلیم کی گئی ہیں اور جن کے ترجمہ کی تشریح کیلئے میں نے بعض الفاظ زائد کر دیئے ہیں مندرجہ ذیل یقینی نتائج پیدا ہوتے ہیں۔اوّل۔جس وقت آپ مدینہ سے نکلے اس وقت مومنوں میں سے بعض لوگ آپ کے نکلنے کو ایک مشکل اور نازک کام سمجھتے تھے۔دوم۔مومنوں کی ( مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ سب کی یا اکثر کی۔مگر غالبا اکثر کی ) یہ خواہش تھی کہ قافلہ کے ساتھ مقابلہ ہو۔سوم۔یہ خواہش اس لئے نہیں تھی کہ انہیں قافلہ کے اموال و امتعہ کا خیال تھا بلکہ اس لئے تھی کہ قافلہ والوں کی تعداد تھوڑی تھی اور ان کا سامان حرب بھی کم تھا اس لئے اس کے مقابلہ میں کم تکلیف اور کم مشکل پیش آنے کا احتمال تھا۔چہارم۔مگر اللہ تعالیٰ کا شروع سے ہی یہ ارادہ تھا کہ مسلمانوں کا مقابلہ لشکر قریش کے ساتھ ہو۔تا کہ وہ ائمۃ الکفر جو اپنے مظالم اور سرکشیوں اور خونی کارروائیوں کی وجہ سے ہلاک کئے جانے کے سزاوار ہو چکے تھے ایک خدائی نشان کے طور پر کمزور لوگوں کے ہاتھوں سے ہلاک کر دیے جائیں اور وہ پیشگوئی پوری ہو جوان کی ہلاکت کے متعلق پہلے سے کی جا چکی ہے۔