سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 388
۳۸۸ پنجم۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ باوجود اس کے کہ مسلمانوں کا میلان قافلہ کے مقابلہ کی طرف تھا قافلہ تو بچ کر نکل گیا اور لشکر قریش سے ان کا اچانک سامنا ہو گیا۔خشم۔یہ تصرف اس لئے کیا گیا کہ مسلمانوں کی حالت اس وقت ظاہری اسباب کے ماتحت اتنی کمز ور تھی کہ اگر خود ان پر اس لڑائی کے وقت تعیین چھوڑ دی جاتی تو ان میں سے ایک فریق ضرور اس مقابلہ کے وقت کو پیچھے ڈالنے کی کوشش کرتا حالانکہ اللہ کا منشا یہ تھا کہ ابھی مقابلہ ہو اور فیصلہ ہو جائے۔ہفتم۔یہ خدائی تصرف لشکر قریش اور مسلمانوں کے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہو جانے کے وقت تک بھی جاری رہا۔چنانچہ خدائی تصرف کے ماتحت دونوں فوجیں ایسے طور پر ایک دوسرے کے سامنے آئیں کہ دونوں ایک دوسرے کو ان کی اصلی تعداد سے کم نظر آتے تھے اور یہ اس لئے کیا گیا کہ تا مسلمانوں میں بددلی نہ پیدا ہو اور قریش بھی جرات کے ساتھ آگے بڑھیں اور مقابلہ ہو جاوے۔یہ وہ سات باتیں ہیں جو امر زیر بحث کے متعلق قرآن شریف سے یقینی طور پر پتہ لگتی ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے نمبر اول کے یہ ساری باتیں تاریخی بیان کے عین مطابق ہیں اور ان میں وہی حالات بیان کئے گئے ہیں جو صحیح تاریخی روایات اور احادیث میں مذکور ہوئے ہیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم تاریخی بیان کو رد کر دیں کیونکہ نہ صرف یہ کہ وہ قرآنی بیان کے مخالف نہیں ہے بلکہ اس کے رد کرنے سے قرآنی بیان کا رد لازم آتا ہے۔غور کا مقام ہے کہ تاریخی روایات سوائے اس کے اور کیا کہتی ہیں کہ مسلمانوں کا لشکر قافلہ کے خیال سے نکلا تھا، مگر اچانک اس کا مقابلہ لشکر قریش سے ہو گیا۔مگر کیا قرآن شریف بھی یہی نہیں کہتا کہ مسلمانوں کو قافلہ کی خواہش تھی ، مگر خدا تعالیٰ نے اس کا مقابلہ اچانک لشکر قریش سے کرا دیا ؟ اور قرآن شریف اس کی وجہ بھی بتاتا ہے کہ خدا نے یہ کام اپنے خاص تصرف کے ماتحت اس لئے کیا کہ تا بطور ایک خدائی نشان کے آئمۃ الکفر مسلمانوں کے ہاتھ سے ہلاک کروا دئیے جائیں اور وہ پیشگوئی پوری ہو جو ان کی ہلاکت کے متعلق پہلے سے کی جاچکی تھی۔اندریں حالات اس بات کے ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ مسلمان مدینہ سے ہی لشکر قریش کے مقابلہ کے لئے نکلے تھے اس بات کے ہم معنی ہے کہ نہ صرف یہ کہ تاریخ و احادیث کی کثیر التعداد مضبوط اور صحیح روایات کو بالکل ردی کی طرح پھینک دیا جاوے بلکہ اس قرآنی بیان کو بھی غلط قرار دیا جاوے جسے خدا تعالیٰ نے بدر کے قصہ میں بطور مرکزی نقطہ کے رکھا ہے۔پس حق یہی ہے کہ مسلمان قافلہ ہی کی روک تھام کے خیال سے نکلے لیکن جب بدر کے پاس پہنچے تو اچانک یعنی علی غیر میعاد لشکر قریش کا سامنا ہو گیا اور جیسا کہ ہم اوپر ثابت کر چکے ہیں قافلہ کی روک تھام