سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 361 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 361

۳۶۱ -۲۷ - ۲۸ صحابہ کوحکم تھا کہ لڑائی میں کسی کے منہ پر ضرب نہ لگا ئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ ضرب لگانے میں سب لوگوں سے زیادہ نرم مسلمان کو ہونا چاہئے۔۲۹ تاکیدی حکم تھا کہ جب تک عملاً لڑائی نہ ہوئے۔قیدی نہ پکڑے جائیں۔یہ نہیں کہ دشمن کو ھاک تک مالائی نہ ہوے قیدی نہ جائیں۔یہ دیکھا اور کمزور پا کر قیدی پکڑنے شروع کر دئے۔-۳۲ حکم تھا کہ جو قیدی پکڑے جائیں انہیں بعد میں حسب حالات یا تو بطور احسان کے یونہی چھوڑ دیا جاوے یا ضروری ہو تو قید میں رکھا جاوے، مگر یہ قید صرف اس وقت رہ سکتی ہے کہ جب تک جنگ جاری رہے یا جنگ کی وجہ سے جو بوجھ پڑے ہوں وہ دور نہ ہو جائیں، اس کے بعد نہیں ہے قیدیوں کے ساتھ نہایت درجہ نرمی اور شفقت کے سلوک کا حکم تھا۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی وجہ سے صحابہ کو خود اپنے آرام کی نسبت بھی قیدیوں کے آرام کا خیال زیادہ رہتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی حکم تھا کہ جو قیدی آپس میں قریبی رشتہ دار ہوں ان کو ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہ کیا جاوے۔قیدیوں کا فدیہ صرف نقدی کی صورت میں لینے پر اصرار نہ کیا جاتا تھا۔چنانچہ بدر کے بعض خواندہ قیدیوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھوتہ کیا تھا کہ اگر وہ مسلمانوں کو نوشت و خواند سکھا دیں تو انہیں چھوڑ دیا جاوے گا۔بعض اوقات کفار قیدیوں کو مسلمان قیدیوں کے تبادلہ میں بھی چھوڑ دیا جاتا تھا۔نقد فدیہ کی صورت میں بھی مکاتبت کے طریق کی اجازت تھی۔۳۳۔مسلمانوں کو لوٹ مار اور غارت گری سے نہایت سختی سے روکا جا تا تھا۔چنانچہ اس کے متعلق کسی قدر مفصل بحث او پر گزر چکی ہے۔-۳۴ حکم تھا کہ اگر لڑائی کے وقت بھی کوئی دشمن اسلام کا اظہار کرے تو خواہ اس نے مسلمانوں کا کتنا ہی نقصان کیا ہو فوراً اس سے ہاتھ کھینچ لو۔کیونکہ اب اس سے خطرہ کا احتمال نہیں رہا۔چنانچہ اس ضمن میں اسامہ بن زید کا واقعہ او پرگز را ہے۔ل : بخاری و مسلم ۳ : سورۃ انفال : ۶۸ ه: ترمذی ابواب السير وابواب البيوع : ابوداؤد : سورة محمد : ۵