سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 344 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 344

۳۴۴ صورت وشکل میں ہے جیسا کہ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے وقت میں تھا۔یہ یادرکھنا چاہئے کہ سرولیم میور اسلام کے دوستوں میں سے نہیں ہیں بلکہ انہوں نے اپنی کتاب میں جابجا اسلام اور بانی اسلام پر سخت حملے کئے ہیں مگر قرآن کی وہ ارفع شان ہے جسے کسی کا تعصب گردآلود نہیں کرسکتا۔پھر نولڈ یکی جو جر منی کا ایک نہایت مشہور عیسائی مستشرق گزرا ہے اور جو اس فن میں گویا استاد مانا گیا ہے قرآن کے متعلق لکھتا ہے کہ: آج کا قرآن بعینہ وہی ہے جو صحابہ کے وقت میں تھا۔“ پھر لکھتا ہے کہ: ،، یوروپین علماء کی یہ کوشش کہ قرآن میں کوئی تحریف ثابت ہو سکے قطعاً نا کام رہی ہے۔“ یہ تو قرآن کی عام صحت کے متعلق اہل مغرب کی شہادت ہے۔پھر خاص تاریخی نقطہ نگاہ سے سرولیم میور لکھتے ہیں کہ : اسلام اور بانی اسلام کے متعلق تاریخی تحقیقات کرنے کے لئے قرآن ایک بنیادی پتھر ہے جس سے ہر واقعہ کی صحت جانچی جاسکتی ہے“ پھر لکھتے ہیں : ،، د نبی اسلام کے سوانح کے لئے قرآن ایک یقینی کلید ہے۔“ پھر پروفیسر نکلسن جو انگلستان کا ایک مسیحی مستشرق ہے اور جس کی تصنیف ”عرب کی ادبی تاریخ “ بہت شائع اور متعارف ہے، اپنی اس کتاب میں لکھتا ہے: اسلام کی ابتدائی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لئے قرآن ایک بے نظیر اور ہر قسم کے ،، شک وشبہ سے بالا کتاب ہے اور یقیناً بدھ مذہب اور میسحیت یا کسی قدیم مذہب کو اس قسم کا مستند تاریخی ریکارڈ حاصل نہیں ہے جیسا کہ قرآن میں اسلام کو حاصل ہے۔“ الغرض قرآن کریم ابتدائی اسلامی تاریخ کا بالکل سچا اور سب سے زیادہ مستند ریکارڈ ہے اور اس کو وہ مرتبہ حاصل ہے جو حدیث یا سیرت یا تاریخ کو حاصل نہیں ہے۔پس جب قرآن کریم اپنی اس آیت میں جو سب سے پہلے جہاد بالسیف کی اجازت میں نازل ہوئی نہایت واضح اور غیر مشکوک الفاظ میں یہ شہادت : دیکھودیباچہ لائف آف محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مصنفہ سرولیم میور : انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا : دیکھو لائف آف محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مصنفہ میور : دیکھو عرب کی ادبی تاریخ مصنفہ نکلسن صفحہ ۱۴۳