سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 332 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 332

۳۳۲ رہتا لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے جو اس بات کا ایک یقینی ثبوت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی خواہش یہ تھی کہ جس طرح بھی ہو یہ جنگ رک جاوے اور ملک میں امن وامان کی صورت پیدا ہو۔پھر اسی موقع پر جو قرآنی آیت نازل ہوئی وہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان لڑائیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غرض جبری تبلیغ نہ تھی بلکہ قیام امن تھی۔چنانچہ بخاری میں روایت آتی ہے کہ یہ آیت قرآنی که اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا یا یعنی ہم نے تجھے یہ ایک بڑی کھلی کھلی فتح عطا کی ہے۔صلح حدیبیہ ہی کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔گویا اللہ تعالیٰ نے صلح اور قیام امن کا نام مسلمانوں کے لئے ایک کھلی کھلی فتح رکھا ہے اور حق بھی یہ ہے کہ صلح حدیبیہ ایک نہایت عظیم الشان فتح تھی جس کے مقابل میں ایک طرح سے بدر و خندق بھی حقیقت نہیں رکھتے۔کیونکہ گوبدر و خندق میں کفار کو ہر سمت ہوئی اور وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں پسپا ہو کر لوٹے لیکن ان جنگوں میں مسلمانوں کو ان کے جہاد کا مقصد حاصل نہیں ہوا کیونکہ کفارا بھی تک اسی طرح برسر پیکار تھے اور جنگ جاری تھی لیکن حدیبیہ میں گوگوئی کشت و خون نہیں ہوا اور بظاہر مسلمانوں کو دب کر صلح کرنی پڑی لیکن ان کے جہاد کا مقصد حاصل ہو گیا یعنی جنگ رک گئی اور ملک میں امن قائم ہو گیا۔پس حقیقی فتح صلح حدیبیہ ہی تھی اور اسی لئے خدا نے اس کا نام فتح مبین رکھا اور یہ ایک نہایت زبر دست ثبوت اس بات کا ہے کہ مسلمانوں کی لڑائیاں دفاع یا قیام امن کے لئے تھیں نہ کہ اسلام کو بزور پھیلانے کی غرض سے۔صلح کے زمانہ میں مسلمانوں کو غیر معمولی ترقی نصیب ہوئی ایک اور جہت سے بھی اس سوال پر غور ہوسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جاوے کہ آیا صلح کے زمانہ میں اسلام کو زیادہ ترقی حاصل ہوئی یا کہ جنگ کے زمانہ میں۔اگر یہ ثابت ہو جاوے کہ صلح کے زمانہ میں اسلام نے جنگ کے زمانہ کی نسبت غیر معمولی سرعت کے ساتھ ترقی کی تھی تو یہ اس بات کا ایک عملی ثبوت ہوگا کہ یہ ڈائیاں اسلام کی جبری اشاعت کی غرض سے نہ تھیں۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کے دوسرے سال سے عملی جنگ کا آغاز ہو گیا تھا اور صلح حدیبیہ ہجرت کے چھٹے سال میں وقوع میں آئی۔گویا صلح حدیبیہ سے پہلے مسلمانوں پر قریباً پانچ سال جنگ کی حالت میں گزرے تھے۔ان پانچ سالوں میں مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ ان سپاہیوں کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے جو اسلامی فوج میں شامل ہو کر شریک جنگ ہوتے تھے۔اعلان جنگ ماہ صفر ۲ ہجری میں ہوا اور : بخاری کتاب التفسیر : سورة فتح : ۲