سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 269 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 269

۲۶۹ میں ملتے تھے اور چونکہ حضرت ابو بکر" بوجہ تجارت پیشہ ہونے کے اس راستہ سے بار ہا آتے جاتے رہتے تھے اس لئے اکثر لوگ ان کو پہچانتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پہچانتے تھے۔لہذا وہ ابو بکر سے پوچھتے تھے کہ یہ تمہارے آگے آگے کون ہے۔حضرت ابوبکر فرماتے ـ هذا يَهْدِينِيَ السَّبِيلَ - یہ میرا ہادی ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ شاید یہ کوئی دلیل یعنی گائیڈ ہے جو راستہ دکھانے کے لئے حضرت ابو بکر نے ساتھ لے لیا ہے مگر حضرت ابو بکر کا مطلب کچھ اور ہوتا تھا۔اختتام سفر اور تکمیل ہجرت آٹھ روز کے سفر کے بعد راستہ میں مختلف جگہ ٹھہر تے ہوئے بارہ ربیع الاول ۱۴ نبوی مطابق ۲۰ ستمبر ۶۲۲ ء کو آپ مدینہ کے پاس پہنچے ہے اہل میٹرب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے روانگی کے متعلق خبر پہنچ چکی تھی اس لیے وہ ہر روز مدینہ سے باہر آپ کے استقبال کے لیے آتے اور دیر دیر تک انتظار کرتے رہتے تھے مگر جب دھوپ تیز ہونے لگتی تھی تو مایوس ہو کر واپس لوٹ جاتے تھے۔اُس دن بھی وہ آپ کے استقبال کے لیے آئے ہوئے تھے مگر چونکہ دن بہت چڑھ آیا تھا اس لیے آج بھی مایوس ہو کر واپس چلے گئے تھے کہ اچانک جبکہ وہ ابھی اپنے گھروں میں پہنچے ہی تھے ایک یہودی نے جو اپنی گڑھی میں ایک بلند مقام پر کسی اپنی غرض سے کھڑا تھا دور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو سفید لباس میں چمکتے ہوئے دیکھا اور زور سے پکار کر کہا۔”اے اہل عرب ! جس کا تم راہ دیکھتے ہو وہ یہ آتا ہے۔‘ مخلص جماعت کے کان ، میں یہ آواز پہنچی اور مسلمان خوشی کے جوش میں دیوانے ہو کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور جلدی جلدی ہتھیار سنبھال کر دوڑتے بھاگتے ہوئے شہر سے باہر نکل آئے۔۔: بخاری باب الحجرت : زرقانی ومحمود پاشا مصری بعض محققین کی تحقیق کے مطابق آٹھ ربیع الاول تاریخ تھی۔: عربوں میں ہتھیار لگا کر کسی کے استقبال کے لیے نکلنا اس بات کی علامت سمجھی جاتی تھی کہ استقبال کرنے والا اپنے مہمان کے لیے جان تک قربان کر دینے کے لیے تیار ہے