سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 236
۲۳۶ میں پانچ نمازوں کا مقرر کیا جانا بھی اپنے اندر روحانی حفاظت اور روحانی تقویت کا ایک ایسا غیر معمولی سامان رکھتا ہے جو یقینا کسی اور مذہب میں پایا نہیں جاتا۔کیا اسلامی عبادتوں میں ظاہری بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اسلام نے اپنی عبادتوں میں ظاہری فارم یعنی شکل وصورت پر ضرورت شکل وصورت پر زیادہ زور دیا گیا ہے سے زیادہ زور دیا ہے اور اس کے بغیر انہیں ناقص سمجھا ہے اور اصل چیز جو دل کی کیفیت سے تعلق رکھتی ہے اور جو گویا عبادت کی روح سمجھی جانی چاہیئے اس کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی بلکہ بعض لوگ تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ عبادت میں اصل چیز اس کی روح ہے اس لیے اس کے واسطے کسی ظاہری شکل وصورت کے مقرر کرنے کی ضرورت ہی نہیں صرف دل کی توجہ کافی ہونی چاہیئے اور یہ کہ اسلام نے عبادت کی ایک فارم مقرر کر کے اور پھر اس پر ضرورت سے زیادہ زور دے کر اس کی اصل روح کو مٹا دیا ہے۔یہ وہ اعتراض ہے جو آجکل اسلامی عبادتوں کے متعلق کیا جاتا ہے، لیکن غور کیا جائے تو یہ اعتراض بالکل فضول اور بودا ہے۔یعنی نہ تو یہ خیال درست ہے کہ عبادت چونکہ دل کی توجہ کا نام ہے اس لیے عبادتوں میں کسی فارم یعنی ظاہری شکل وصورت کے مقرر کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ یہ درست ہے کہ اسلام نے عبادت کی ظاہری شکل وصورت پر ضرورت سے زیادہ زور دیا ہے اور اس کی اصل حقیقت کی طرف توجہ نہیں کی۔یہ دونوں خیال اسلامی تعلیم کی رُو سے قطعأغلط اور بے بنیاد ثابت ہوتے ہیں۔پہلے ہم اس اعتراض کو لیتے ہیں کہ کیا عبادت میں کسی ظاہری شکل وصورت کے مقرر کئے جانے کی ضرورت ہے یا نہیں ؟ سو جانا چاہیئے کہ یہ خیال کہ چونکہ عبادت کا حقیقی تعلق انسان کی قلبی کیفیت سے ہے اس لیے اس کے واسطے کسی ظاہری فارم یعنی شکل وصورت کی ضرورت نہیں ایک بالکل جہالت اور نادانی کا خیال ہے کیونکہ اول تو جب جسم بھی خدا کا پیدا کردہ ہے تو اس کا بھی فرض ہے کہ وہ بھی خدا کی عبادت میں حصہ لے اور اسے اپنے خالق و مالک کی عبودیت سے خارج یا آزاد قرار دے دینا کسی طرح بھی جائز نہیں سمجھا جاسکتا۔انسان کا جسم اور اس کے سارے اعضاء اور ان اعضاء کی ساری طاقتیں خدا کی پیدا کردہ ہیں۔پس اگر روح پر خدا کی مخلوق ہونے کی وجہ سے عبادت کا فرض عائد ہوتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ جسم اس فرض کی ادائیگی سے باہر رہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ: وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ل : سورة بقره : ۴