سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 235
۲۳۵ نہیں ہوتی ان کی روح بے شک نماز کے اعمال میں سے گذر کر بھی خالی کی خالی نکل آتی ہے کیونکہ ان کے عمل میں کوئی جان نہیں ہوتی اور بے جان عمل کوئی تغیر پیدا نہیں کر سکتا۔الغرض اس میں قطعاً کوئی شک نہیں ہے کہ نماز حقیقی معنوں میں مومن کی معراج ہے اور مسلمان اس مبارک عبادت پر جتنا بھی فخر کریں وہ تھوڑا ہے۔یقیناً نماز کے مقابلہ پر کسی مذہب کی کوئی عبادت نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ جس طرح نماز میں جسم اور روح کی ان بار یک دربار یک کیفیات کو ملحوظ رکھا گیا ہے جو تعبد کے لیے ضروری ہیں وہ کسی اور جگہ نظر نہیں آتا۔پھر نماز میں ان مختلف کیفیات کو جس ترتیب کے ساتھ رکھا گیا ہے وہ بھی فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔سب سے پہلے درجہ پر قیام ہے اور یہ وہ کیفیت ہے جس میں سینہ پر ہاتھ باندھے ہوئے ایک مومن خدا کے دربار میں حاضر ہوتا ہے۔اس کے بعد رکوع ہے جو قیام اور سجدہ کے بین بین تعبد و تذلل کا ایک درمیانی مرتبہ ہے۔اس کے بعد سجدہ ہے جس میں گویا انسانی روح اپنے خالق و مالک کی اعلیٰ اور کامل صفات کا مطالعہ کر کے اس کے سامنے بیتاب ہو کر زمین پر گر جاتی ہے سب سے آخر میں قعدہ ہے جو سجدہ کے بعد ایک سکون کی کیفیت ہے جس میں انسان تعبد و تذلل کے مراحل میں سے گذر کر گویا خدا کے تسلی یافتہ بندوں میں شامل ہو جاتا ہے۔اس کے بعد نماز پڑھنے والا دونوں طرف منہ پھیر کر سلام کہتا ہے اور نماز سے فارغ ہو جاتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اب اسے دنیا میں واپس جا کر دوسرے لوگوں تک بھی اس سلامتی کے پیغام کو پہنچانا چاہیئے جو اُس نے اپنے خدا سے حاصل کیا ہے۔اس کے علاوہ نماز کی کوئی حالت بھی خاموشی کی حالت نہیں بلکہ ہر حالت کے ساتھ اس حالت کے مناسب حال دعا اور تحمید اور تسبیح وغیرہ کے کلمات مقرر کر دیئے گئے ہیں تا کہ یہ مبارک کلمات جسم کی ظاہری حالت اور دل کی باطنی توجہ کے ساتھ مل کر ایک پورا اور حقیقی نقشہ تعبد اور تذلل اور سوال کا پیدا کر دیں۔بھلا اس کامل و مکمل عبادت کے مقابلہ پر دوسرے مذاہب کا نا نایا بجانا یا کسی غیر فطری حالت میں محض کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر کوئی الفاظ منہ سے کہہ دینا کیا حقیقت رکھتا ہے؟ اور پھر اسلام نے نماز کی عبادت کو ایک اجتماعی صورت دینے کے لیے ایک ضروری شرط یہ بھی قرار دے دی ہے کہ ایک حلقہ کے سب مسلمان باہم مل کر ایک امام کے پیچھے با ترتیب صفوں میں قبلہ رخ کھڑے ہو کر نماز ادا کیا کریں اور ضمنی طور پر اس روزانہ پنجوقتہ اجتماع میں بہت سے دوسرے اجتماعی مفاد کا دروازہ بھی کھول دیا گیا ہے۔غرض وضو سے لے کر اپنے اختتام تک نماز ایک نہایت ہی بابرکت عبادت ہے جس سے بڑھ کر قرب الہی کے حصول اور دل کی طہارت کے لیے کوئی دوسری عبادت تصویر میں نہیں آسکتی اور دن رات کے مختلف وقتوں