سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 220
۲۲۰ اس قرآنی بیان کی تشریح، تفصیل میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں اُن میں بدقسمتی سے کسی قدر اختلاف پایا جاتا ہے اور جیسا کہ قاعدہ ہے جوں جوں کوئی روایت اعتبار کے اعلیٰ مقام سے نیچے گرتی گئی ہے توں توں اس میں کمزور حصہ کا دخل زیادہ ہوتا گیا ہے۔اس لیے ہم اس جگہ صرف مضبوط اور معتبر روایتوں تک اپنے آپ کو محدود رکھیں گے۔اور اُن میں سے بھی صرف اس حصہ پر اکتفا کریں گے جو ہماری تحقیق میں اختلاف و اختلاط سے پاک ہے۔سو جانا چاہیئے کہ معراج کے متعلق صحیح روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ: ایک رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام کے اس حصہ میں جو حطیم کہلاتا ہے لیٹے ہوئے تھے اور یقظه اور نوم کی درمیانی حالت تھی۔یعنی آپ کی آنکھ تو سوتی تھی مگر دل بیدار تھا کہ آپ نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام نمودار ہوئے ہیں۔حضرت جبرائیل نے آپ کے قریب آ کر آپ کو اٹھایا اور چاہ زمزم کے پاس لا کر آپ کا سینہ چاک کیا اور آپ کے دل کو زمزم کے مصفا پانی سے اچھی طرح دھویا۔اس کے بعد ایک سونے کی طشتری لائی گئی جو ایمان و حکمت سے لبریز تھی اور حضرت جبرائیل نے آپ کے دل میں حکمت و ایمان کا خزانہ بھر کر آپ کے سینہ کو پھر اُسی طرح بند کر دیا۔اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام آپ کو اپنے ساتھ لے کر آسمان کی طرف اُٹھ گئے اور پہلے آسمان کے دروازہ پر پہنچ کر دستک دی۔دربان نے پوچھا کون ہے؟ جبرائیل نے جواب دیا میں جبرائیل ہوں اور میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔دربان نے پوچھا۔کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا گیا ہے؟ جبرائیل نے کہا۔ہاں۔اس پر دربان نے دروازہ کھول کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا۔اندر داخل ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بزرگ انسان کو دیکھا۔جس نے آپ کو مخاطب ہو کر کہا۔” مرحبا اے صالح نبی اور اے صالح فرزند۔اور آپ نے بھی اُسے سلام کیا۔اس شخص کے دائیں اور بائیں ایک بہت بڑی تعداد میں روحوں کا سایہ پڑ رہا تھا۔جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتا تھا تو اس کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھتا تھا اور جب بائیں طرف دیکھتا تھا تو غم سے اس کا منہ اُتر جاتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل سے پوچھا! یہ صاحب کون ہیں؟ جبرائیل نے کہا یہ آدم ہیں اور ان کے دائیں طرف ان کی نسل میں سے اہل جنت کا سایہ پڑ رہا ہے جسے دیکھ کر وہ خوش ہوتے ہیں اور بائیں طرف اہل نار کا سایہ ہے جسے دیکھ کر وہ غم محسوس کرتے ہیں۔اس کے بعد حضرت جبرائیل آپ کو لے کر آگے چلے اور دوسرے آسمان کے دروازہ پر بھی آپ کو وہی واقعہ پیش آیا۔اور اس کے اندر داخل ہو کر آپ نے دو شخصوں کو دیکھا جنہوں نے ان الفاظ میں آپ کو خیر مقدم کیا کہ ”مرحبا اے صالح نبی اور صالح بھائی اور آپ نے بھی انہیں سلام کہا۔