سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 219
۲۱۹ اسراء اور معراج کے بارے میں دو اصولی غلطیوں کے ازالہ کے بعد ہم اصل واقعہ کو لیتے ہیں یعنی یہ کہ ان کشوف کی تفصیلات کیا تھیں۔وہ کس جہت سے آیات الہی کے حامل تھے اور وہ کب وقوع پذیر ہوئے۔پہلے ہم معراج کو لیتے ہیں۔سو جاننا چاہیئے کہ معراج ایک عربی لفظ ہے جو عرج سے نکلا ہے جس کے معنے اوپر چڑھنے کے ہیں۔چنانچہ اسی وجہ سے عربی میں معراج سیڑھی کو بھی کہتے ہیں جو گویا اوپر چڑھنے کا آلہ اور واسطہ ہے۔معراج کی تفصیل قرآن شریف میں اس طرح بیان ہوئی ہے کہ: عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ذُومِرَّةٍ فَاسْتَوى ( وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى أَفَتُمُرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى وَلَقَدْرَاهُ نَزْلَةً أُخْرى ، عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى إِذْ يَخْشَى السَّدْرَةَ مَا يَغْشَى مَازَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ أَيْتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى یعنی خدا نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خود تعلیم دی ہے۔وہی خدا جو بڑی طاقتوں کا مالک اور صاحب قوت وسطوت ہے سو ( اس تعلیم کے نتیجہ میں ) یہ رسول ایستادہ ہو کر بلند ہوا حتی کہ وہ بلند ہوتا ہوتا افق اعلیٰ تک جا پہنچا۔پھر وہ خدا سے قریب ہوا اور خدا بھی اس کی طرف جھ کا حتی کہ وہ دونوں یوں ہو گئے جیسے دو کمانوں کے ملنے سے اُن کا چلہ ایک ہو جاتا ہے (یعنی کما نہیں تو الگ الگ رہتی ہیں مگر تیر چلانے کی جگہ ایک ہو جاتی ہے اور مقصد و مرمی کے لحاظ سے کوئی دوئی نہیں رہتی ) اس حالت میں خدا نے اپنے اس رسول کو وہ وحی کی جو اُ سے کرنا تھی اور رسول کے قلب صافی نے اس نظارہ کے دیکھنے میں کوئی غلطی نہیں کی بلکہ جو کچھ دیکھا ٹھیک ٹھیک دیکھا۔کیا اے لوگو تم ہمارے رسول کے اِن روحانی مناظر کو شک کی نظر سے دیکھتے ہو؟ حالانکہ اس نے تو اس وقت (اس سے بھی بڑھ کر ) ایک اور نظارہ بھی دیکھا تھا۔وہی جو اُس نے اس انتہائی بیری کے قریب دیکھا۔وہ بیری جو ابدی رہائش والی جنت کے پاس ہے جبکہ اس بیری پر ایک خاص تجلی کا ظہور ہو رہا تھا۔یقیناً اس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ غلط راستہ پر نہیں پڑی اور نہ ہی وہ حد مقررہ سے آگے نکلی اور آپ نے اس نظارہ میں خدائے ذوالجلال کے بڑے بڑے نشان ملاحظہ کئے۔“ " لے : سورة نجم : ۶ تا ۱۹