سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 165
ܬܪܙ ایام کش مکش ہجرت حبشہ جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی او قریش اپنی ایذاء رسانی میں ترقی کرتے گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں اور فرمایا کہ حبشہ کا بادشاہ عادل اور انصاف پسند ہے۔اس کی حکومت میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔‘ے حبشہ کا ملک جو انگریزی میں ایتھوپی یا آبی سینیا کہلاتا ہے، بر اعظم افریقہ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور جائے وقوع کے لحاظ سے جنوبی عرب کے بالکل مقابل پر ہے اور درمیان میں بحیرہ احمر کے سوا کوئی اور ملک حائل نہیں۔اس زمانہ میں حبشہ میں ایک مضبوط عیسائی حکومت قائم تھی اور وہاں کا بادشاہ نجاشی کہلاتا تھا۔بلکہ ابتک بھی وہاں کا حکمران اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔حبشہ کے ساتھ عرب کے تجارتی تعلقات تھے یہ اور ان ایام میں جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں حبشہ کا دارالسلطنت اکسوم (Axsum) تھا جو موجودہ شہر عدوا (Adowa) کے قریب واقع ہے اور اب تک ایک مقدس شہر کی صورت میں آباد چلا آتا ہے۔اکسوم ان دنوں میں ایک بڑی طاقتور حکومت کا مرکز تھا۔اور اس وقت کے نجاشی کا ذاتی نام اصحمہ تھا جو ایک عادل بیدار مغز اور مضبوط بادشاہ تھا۔بہر حال جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ جن جن سے ممکن ہو حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے پر ماہ رجب ۵ نبوی میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔اُن میں سے زیادہ معروف کے نام یہ ہیں: حضرت عثمان بن عفان اور ان کی زوجہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، عبدالرحمن بن عوف، زبیر بن العوام، ابو حذیفہ بن عقبہ، عثمان بن مظعون ، مصعب بن عمیر، ابوسلمہ بن عبدالاسد اور ان کی زوجہ اُم سلمہ نے یہ ایک عجیب بات ہے کہ ان ابتدائی مہاجرین میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی تھی جو قریش کے طاقتور قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور کمز ور لوگ کم نظر ل : ابن ہشام وطبری : طبری : چیمبرس انسائیکلو پیڈیا : بخاری و زرقانی ه : ابن سعد : ابن ہشام