سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 166 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 166

۱۶۶ آتے ہیں جس سے دو باتوں کا پتا چلتا ہے۔اول یہ کہ طاقتور قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی قریش کے مظالم سے محفوظ نہ تھے۔دوسرے یہ کہ کمز ور لوگ مثلاً غلام وغیرہ اس وقت ایسی کمزوری اور بے بسی کی حالت میں تھے کہ ہجرت کی بھی طاقت نہ رکھتے تھے۔جب یہ مہاجرین جنوب کی طرف سفر کرتے ہوئے شعیہ پہنچے جو اُس زمانہ میں عرب کا ایک بندرگاہ تھا تو اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ ان کو ایک تجارتی جہاز مل گیا جو حبشہ کی طرف روانہ ہونے کو بالکل تیار تھا؛ چنانچہ یہ سب امن سے اس میں سوار ہو گئے اور جہاز روانہ ہو گیا۔قریش مکہ کو ان کی ہجرت کا علم ہوا تو سخت برہم ہوئے کہ یہ شکار مفت میں ہاتھ سے نکل گیا۔چنانچہ انہوں نے ان مہاجرین کا پیچھا کیا مگر جب ان کے آدمی ساحل پر پہنچے تو جہاز روانہ ہو چکا تھا، اس لئے خائب و خاسر واپس لوٹے۔حبشہ میں پہنچ کر مسلمانوں کو نہایت امن کی زندگی نصیب ہوئی اور خدا خدا کر کے قریش کے مظالم سے چھٹکار املا۔بعض قریش کے اسلام کی جھوٹی افواہ اور بعض مہاجرین حبشہ کی واپسی مین جیسا کہ اس مؤرخین نے بیان کیا ہے ابھی ان مہاجرین کو حبشہ میں گئے زیادہ عرصہ نہ گذرا تھا کہ ایک اُڑتی ہوئی افواہ ان تک پہنچی کہ تمام قریش مسلمان ہو گئے ہیں مکہ میں اب بالکل امن و امان ہے۔اس خبر کا یہ نتیجہ ہوا کہ اکثر مہاجرین بلا سوچے سمجھے وا پس آگئے۔جب یہ لوگ مکہ کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی۔اب ان کے لئے بڑی مصیبت کا سامنا تھا۔بالآ خر بعض تو راستہ میں سے ہی واپس لوٹ گئے اور بعض چھپ چھپ کر یا کسی ذی اثر اور طاقتور شخص کی حمایت میں ہو کر مکہ میں آگئے۔یہ شوال ۵ نبوی کا واقعہ ہے کے یعنی آغاز ہجرت اور مہاجرین کی واپسی کے درمیان صرف ڈھائی تین ماہ کا فاصلہ تھا۔کیونکہ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں حبشہ کی ہجرت رجب کے مہینہ میں ہوئی تھی اور مہاجرین کی مزعومہ واپسی کی تاریخ شوال بیان کی گئی ہے۔گو حقیقہ یہ افواہ بالکل جھوٹی اور بے بنیاد تھی جو مہاجرین حبشہ کو واپس لانے اور ان کو تکلیف میں ڈالنے کی غرض سے قریش نے مشہور کر دی ہوگی بلکہ زیادہ غور سے دیکھا جاوے تو اس افواہ اور مہاجرین کی واپسی کا قصہ ہی بے بنیاد نظر آتا ہے لیکن اگر اسے صحیح سمجھا جاوے تو ممکن ہے کہ اس کی تہ میں وہ واقعہ ہو جو بعض احادیث میں بیان ہوا ہے اور وہ جیسا کہ بخاری میں آتا ہے یہ ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحن کعبہ میں سورۃ نجم کی آیات تلاوت فرمائیں۔اس وقت وہاں کئی ایک رؤساء کفار بھی له : ابن سعد وزرقانی : زرقانی : ابن سعد