سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 136 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 136

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مندرجہ بالا حدیث کے الفاظ میں ظاہری معنے مراد نہ ہوں اور اپنے آپ کو بلندی سے گرا کر زندگی کا خاتمہ کر دینے کا یہ مطلب ہو کہ چونکہ آپ کو یہ ڈر تھا کہ کہیں اس غیبی فرشتہ کا نظر آنا نفس ہی کا پر تو نہ ہو یا یہ سب نظارہ خدا کی طرف سے بطور امتحان کے ہو، اس لیے آپ نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے نفس کو مزید گرا کر اور پست و مغلوب کر کے گویا خدا کی راہ میں اسے بالکل ہی مار دیں۔اس صورت میں پہاڑ پر سے اپنے آپ کو گرا دینے کے الفاظ گویا بطور استعارہ کے سمجھے جائیں گے۔بہر حال خواہ کوئی بھی معنے ہوں آپ کے لیے یہ دن بڑی کش مکش کے دن تھے اور اسی کش مکش کی حالت میں آپ ایک دن غارِ حرا سے گھر کی طرف واپس آرہے تھے کہ اچانک ایک آواز آئی۔گویا کوئی شخص آپ کو مخاطب کر رہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے پیچھے، دائیں بائیں سب طرف دیکھا مگر کچھ نظر نہ آیا۔آخر آپ نے اُوپر نظر اُٹھائی تو کیا دیکھتے ہیں کہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک عظیم الشان گرسی پر وہی فرشتہ بیٹھا ہے جو غارِ حرا میں آپ کو نظر آیا تھا۔آپ نے یہ نظارہ دیکھا تو سہم گئے اور گھبرائے ہوئے جلدی جلدی گھر آئے اور حضرت خدیجہ سے فرمایا: دَبَّرُونِي ! دَقِّرُونِی ! مجھ پر کوئی کپڑا ڈھانک دو۔خدیجہ نے جلدی سے کپڑا اوڑھا دیا اور آپ لیٹ گئے۔آپ کا لیٹنا تھا کہ ایک پر جلال آواز آپ کے کانوں میں آئی: فَاهْجُرْ يَايُّهَا الْمُدَّخِرُ قُمْ فَانْذِرْةُ وَرَبَّكَ فَكَبَرْنَ وَثِيَابَكَ فَطَرْتُ وَالرُّجْزَ د یعنی اے چادر میں لیٹے ہوئے شخص! اُٹھ کھڑا ہو۔اور لوگوں کو خدا کے نام پر بیدار کر۔اُٹھ اور اپنے رب کی بڑائی کے گیت گا اور اپنے نفس کو پاک وصاف کر اور ہر قسم کے شرک سے 66 پر ہیز کر “ اس کے بعد وحی کا سلسلہ برابر جاری ہو گیا۔آغا ز تبلیغ اب آپ کی طبیعت میں یکسوئی اور اطمینان تھا؛ چنانچہ آپ نے لوگوں کو تو حید باری تعالیٰ کی طرف بلانا شروع کیا اور شرک کے خلاف تعلیم دینے لگے مگر شروع شروع میں آپ نے اپنے مشن کا کھلم کھلا اظہار نہیں فرمایا بلکہ نہایت خاموشی کے ساتھ کارروائی شروع کی اور صرف اپنے ملنے والوں کے حلقہ تک اپنی تعلیم کو محد و در کھاتے ل : سورة مدثر : ۲ تا ۵ و بخاری ابواب التفسیر و باب بدء الوحی۔: زرقانی وطبری