سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 868 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 868

ΔΥΛ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں واپس تشریف لے آئے۔مسلمان مہاجر عورتوں کے لئے ایک استثنائی انتظام معاہدوں میں رخنے رہ جایا کرتے ہیں جو بعض اوقات بعد میں اہم نتائج کا باعث بن جاتے ہیں۔چنانچہ صلح حدیبیہ میں بھی یہ رخنہ رہ گیا تھا کہ اس میں گومسلمان مردوں کی واپسی کے متعلق صراحتاً ذکر تھا مگر ایسی عورتوں کا کوئی ذکر نہیں تھا جو اہل مکہ میں سے اسلام قبول کر کے مسلمانوں میں آملیں۔مگر جلد ہی ایسے حالات رونما ہونے لگے جن سے کفار مکہ پر اس رخنہ کا وجود کھلے طور پر ظاہر ہو گیا۔چنانچہ ابھی اس معاہدہ پر بہت تھوڑا وقت گزرا تھا کہ مکہ سے بعض مسلمان عورتیں کفار کے ہاتھ سے چھٹ کر مدینہ میں پہنچ گئیں۔ان میں سب سے اول نمبر پر مکہ کے ایک فوت شدہ مشرک رئیس عقبہ ابن ابی معیط کی لڑکی ام کلثوم تھی جو ماں کی طرف سے حضرت عثمان بن عفان کی بہن بھی لگتی تھی۔ام کلثوم بڑی ہمت دکھا کر پا پیادہ مدینہ پہنچی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے اسلام کا اظہار کیا۔مگر اس کے پیچھے پیچھے اس کے دو قریبی رشتہ دار بھی اس کے پکڑنے کے لئے پہنچ گئے اور اس کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ان لوگوں کا دعوی یہ تھا کہ ( گو معاہدہ میں مرد کا لفظ استعمال ہوا ہے مگر ) دراصل معاہدہ عام ہے اور عورت مرد دونوں پر مساوی اثر رکھتا ہے۔مگر اُم کلثوم معاہدہ کے الفاظ کے علاوہ اس بنا پر بھی عورتوں کے معاملہ میں استثنا کی مدعی تھی کہ عورت ایک کمز ور جنس سے تعلق رکھتی ہے اور ویسے بھی وہ مرد کے مقابلہ پر ایک ماتحت پوزیشن میں ہوتی ہے اس لئے اسے واپس کرنا گویا روحانی موت کے منہ میں دھکیلنا اور اسلام سے محروم کرنا ہے۔پس عورتوں کا اس معاہدہ سے منتقلی سمجھا جانا نہ صرف عین معاہدہ کے مطابق بلکہ عقلاً بھی قرین انصاف اور ضروری تھا اس لئے طبعا اور انصافاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ام کلثوم کے حق میں فیصلہ فرمایا اور اس کے رشتہ داروں کو واپس لوٹا دیا اور خدا تعالیٰ نے بھی اس فیصلہ کی تائید فرمائی چنانچہ انہی دنوں میں یہ قرآنی آیات نازل ہوئیں کہ جب کوئی عورت اسلام کا ادعا کرتی ہوئی مدینہ میں آئے تو اس کا اچھی طرح سے امتحان کرو اور اگر وہ نیک بخت اور مخلص ثابت ہو تو پھر ا سے کفار کی طرف ہرگز نہ لوٹاؤ لیکن اگر وہ شادی شدہ ہو تو اس کا مہر اس کے مشرک خاوند کوضرور ادا کر دو۔اس کے بعد جب بھی کوئی عورت مکہ سے نکل کر مدینہ میں پہنچتی تھی تو اس کا اچھی طرح سے امتحان لیا جا تا تھا اور اس کی اسد الغابہ حالات ام كلثوم وسيرة حلبيه حالات حديبيه : سيرة حلبیہ جلد ۳ صفحه ۲۹ :۳ قرآن شریف سورة الممتحنہ : ۱۱ و بخاری وغیرہ