سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 867
۸۶۷ کھول دینے کا وعدہ کیا ہے اور ہم امن وسلامتی کے ساتھ اہل مکہ کی فتنہ انگیزیوں سے محفوظ ہو کر آئندہ فتوحات کی خوشبو پاتے ہوئے واپس جارہے ہیں۔پس یقیناً یہ ایک عظیم الشان فتح ہے۔کیا تم لوگ ان نظاروں کو بھول گئے کہ یہی قریش اُحد اور احزاب کی جنگوں میں کس طرح تمہارے خلاف چڑھائیاں کرکر کے آئے تھے۔اور یہ زمین با وجود فراخی کے تم پر تنگ ہو گئی تھی اور تمہاری آنکھیں پتھر اگئی تھیں اور کلیجے منہ کو آتے تھے مگر آج یہی قریش تمہارے ساتھ امن و امان کا معاہدہ کر رہے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم سمجھ گئے۔ہم سمجھ گئے۔جہاں تک آپ کی نظر پہنچی ہے وہاں تک ہماری نظر نہیں پہنچتی مگر اب ہم نے سمجھ لیا ہے کہ واقعی یہ معاہدہ ہمارے لئے ایک بھاری فتح ہے۔حضرت عمر کا مزید پیچ و تاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تقریر سے پہلے حضرت عمر بھی بڑے بیچ و تاب میں تھے۔چنانچہ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کی واپسی پر جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت سفر میں تھے تو اس وقت میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کچھ عرض کرنا چاہا مگر آپ خاموش رہے۔میں نے دوبارہ۔سہ بارہ عرض کیا مگر آپ بدستور خاموش رہے۔۔مجھے آنحضرت کی اس خاموشی پر بہت غم ہوا اور میں اپنے نفس میں یہ کہتا ہوا کہ عمر تو تو ہلاک ہو گیا کہ تین دفعہ تو نے رسول اللہ کو مخاطب کیا مگر آپ نہیں بولے چنانچہ میں مسلمانوں کی جمعیت میں سے سب سے آگے نکل آیا اور اس غم میں پیچ و تاب کھانے لگا کہ کیا بات ہے؟ اور مجھے ڈر پیدا ہوا کہ کہیں میرے بارے میں کوئی قرآنی آیت نازل نہ ہو جائے۔اتنے میں کسی شخص نے میرا نام لے کر آواز دی کہ عمر بن خطاب کو رسول اللہ نے یا دفرمایا ہے۔میں نے کہا بس ہونہ ہو میرے متعلق کوئی قرآنی آیت نازل ہوئی ہے۔چنانچہ میں گھبرایا ہوا جلدی جلدی رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کر کے آپ کے پہلو میں آگیا۔آپ نے فرمایا ”مجھ پر اس وقت ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔پھر آپ نے سورہ فتح کی آیات تلاوت فرما ئیں۔سے حضرت عمرؓ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ! کیا یہ صلح واقعی اسلام کی فتح ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں یقیناً یہ ہماری فتح ہے۔اس پر حضرت عمرؓ تسلی پا کر خاموش ہو گئے۔اس کے بعد غالباً اس وقت سورۃ فتح کی آیات نازل ہورہی ہوں گی ے بہیقی بحوالہ زرقانی جلد دوم صفحه ۲۱ ۲۱۱ : بخاری کتاب التفسير باب تفسير سورة فتح وكتاب المغازي عن زيد بن اسلم عن ابيه : مسلم باب صلح الحدیبیہ عن انس