سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 863
۸۶۳ صلح کی شرائط بہر حال بڑی ردو کر کے بعد یہ معاہدہ تکمیلکو پہنچا اور قریبا ہرامر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو چھوڑ کر قریش کا مطالبہ مان لیا اور خدائی منشا کے ماتحت -1 -۲ اپنے اس عہد کو پوری وفاداری کے ساتھ پورا کیا کہ بیت اللہ کے اکرام کی خاطر قریش کی طرف سے جو مطالبہ بھی ہوگا اسے مان لیا جائے گا اور بہر صورت حرم کے احترام کو قائم رکھا جائے گا اس معاہدہ کی شرائط حسب ذیل تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی اس سال واپس چلے جائیں یا آئندہ سال وہ مکہ میں آکر رسم عمرہ ادا کر سکتے ہیں مگر سوائے نیام میں بند تلوار کے کوئی ہتھیار ساتھ نہ ہوا اور مکہ میں تین دن سے زیادہ نہ ٹھہریں ہے اگر کوئی مرد مکہ والوں میں سے مدینہ جائے تو خواہ وہ مسلمان ہی ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے مدینہ میں پناہ نہ دیں اور واپس لوٹا دیں۔چنانچہ اس تعلق میں صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں کہ لَا يَاتِيكَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا یعنی ”ہم میں سے اگر کوئی مرد آپ کے پاس جائے تو آپ اسے واپس لوٹا دیں گے۔“ لیکن اگر کوئی مسلمان مدینہ کو چھوڑ کر مکہ میں آجائے تو اسے واپس نہیں لوٹایا جائے گا۔اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اگر مکہ والوں میں سے کوئی شخص اپنے ولی یعنی گارڈین کی اجازت کے بغیر مدینہ آجائے تو اسے واپس لوٹا دیا جائے گا۔- له قبائل عرب میں سے جو قبیلہ چاہے مسلمانوں کا حلیف بن جائے اور جو چاہے اہل مکہ کا۔یہ معاہدہ فی الحال دس سال تک کے لئے ہوگا اور اس عرصہ میں قریش اور مسلمانوں کے درمیان : بخاری کتاب الشروط وکتاب الصلح بخاری کتاب المغازی باب عمرة القضا و کتاب الجہاد باب المصالحته على ثلاثة ايام وكتاب الصلح باب الصلح مع المشركين و مسلم باب صلح الحديبيه بخاری کتاب الشروط اور کتاب المغازی حالات حدیبیہ حدیث عن مروان و مسور بخاری کتاب الصلح باب الصلح مع المشرکین۔مسلم باب صلح الحدیبین انس وابن سعد حالات حدیبیہ ۵ سيرة ابن هشام ابن ہشام وابن سعد و طبری