سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 862
۸۶۲ کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے تھے۔آپ نے کچھ وقت خاموش رہ کر ابوجندل سے درد مندانہ الفاظ میں فرمایا ” اے ابوجندل ! صبر سے کام لو اور خدا کی طرف نظر رکھو۔خدا تمہارے لئے اور تمہارے ساتھ کے دوسرے کمزور مسلمانوں کے لئے ضرور خود کوئی رستہ کھول دے گا، لیکن ہم اس وقت مجبور ہیں کیونکہ اہل مکہ کے ساتھ معاہدہ کی بات ہو چکی ہے اور ہم اس معاہدہ کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔حضرت عمرؓ کا جوش و خروش مسلمان یہ نظارہ دیکھ رہے تھے اور مذہبی غیرت سے ان کی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا مگر رسول اللہ کے سامنے سہم کر خاموش تھے۔آخر حضرت عمر سے نہ رہا گیا۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آئے اور کا نپتی ہوئی آواز میں فرمایا ” کیا آپ خدا کے برحق رسول نہیں ؟ آپ نے فرمایا ”ہاں ہاں ضرور ہوں۔عمرؓ نے کہا ” کیا ہم حق پر نہیں اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ؟ آپ نے فرمایا ”ہاں ہاں ضرور ایسا ہی ہے۔‘ عمر نے کہا ” تو پھر ہم اپنے بچے دین کے معاملہ میں یہ ذلت کیوں برداشت کریں؟“ آپ نے حضرت عمر کی حالت کو دیکھ کر مختصر الفاظ میں فرمایا دیکھو عمر ! میں خدا کا رسول ہوں اور میں خدا کے منشا کو جانتا ہوں اور اس کے خلاف نہیں چل سکتا اور وہی میرا مددگار ہے مگر حضرت عمرؓ کی طبیعت کا تلاطم لحظه بلحظہ بڑھ رہا تھا۔کہنے لگے ” کیا آپ نے ہم سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ کا طواف کریں گے؟ آپ نے فرمایا ”ہاں میں نے ضرور کہا تھا مگر کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ طواف ضرور اسی سال ہوگا ؟ عمر نے کہا ”نہیں ایسا تو نہیں کہا۔آپ نے فرمایا تو پھر انتظار کر وتم انشاء اللہ ضرور مکہ میں داخل ہو گے اور کعبہ کا طواف کرو گے مگر اس جوش کے عالم میں حضرت عمرؓ کی تسلی نہیں ہوئی لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص رعب تھا اس لئے حضرت عمر وہاں سے ہٹ کر حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور ان کے ساتھ بھی اسی قسم کی جوش کی باتیں کیں اور حضرت ابو بکر نے بھی اسی قسم کے جواب دئے۔مگر ساتھ ہی حضرت ابوبکر نے نصیحت کے رنگ میں فرمایا ”دیکھو عمر سنبھل کر ر ہوا اور رسول خدا کی رکاب پر جو ہاتھ تم نے رکھا ہے اسے ڈھیلا نہ ہو نے دو کیونکہ خدا کی قسم یہ شخص جس کے ہاتھ میں ہم نے اپنا ہاتھ دیا ہے بہر حال سچا ہے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ اس وقت میں اپنے جوش میں یہ ساری باتیں کہہ تو گیا مگر بعد میں مجھے سخت ندامت ہوئی اور میں تو بہ کے رنگ میں اس کمزوری کے اثر کو دھونے کے لئے بہت سے نفلی اعمال بجا لایا ہے یعنی صدقے کئے، روزے رکھے، نفلی نمازیں پڑھیں اور غلام آزاد کئے تا کہ میری اس کمزوری کا داغ دھل جائے۔ابن ہشام حالات صلح حدیبیہ بخاری کتاب الشروط : ابن ہشام حالات حدیبیہ