سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 848
۸۴۸ ایمان بالغیب کے اصول کو پیش کیا ہے۔کیونکہ کامل مشاہدہ کے بعد ایمان کسی انعام یا تعریف کا حق دار نہیں رہتا اس لئے سنت اللہ اس طرح پر واقع ہوئی ہے کہ بچے معجزات کبھی بھی ایسی صورت میں ظاہر نہیں ہوتے کہ گویا بالکل شہود کا رنگ پیدا ہو جائے بلکہ کسی نہ کسی جہت سے کچھ نہ کچھ اخفاء کا پردہ باقی رکھا جاتا ہے۔اسی لئے اہل اللہ نے معجزات کی مثال دن کی تیز روشنی سے نہیں دی بلکہ ایک ایسی چاندنی رات کی روشنی سے دی ہے جس میں کسی قدر بادل بھی ہوں۔ایسی صورت میں جہاں ایک طرف توجہ اور غور سے دیکھنے والوں کو رستہ نظر آ جاتا ہے وہاں دوسری طرف ضدی اور کجر ولوگوں کے لئے شک کی گنجائش بھی باقی رہتی ہے۔البتہ بعض اوقات ایسے معجزات میں جو صرف ان مومنوں کو دکھائے جاتے ہیں جو ایمان کے ابتدائی مراحل سے آگے نکل چکے ہوتے ہیں کسی قدر شہود کا رنگ پیدا کر دیا جاتا ہے مگر یہ ایک لمبا اور بار یک سوال ہے جو تفصیلی بحث چاہتا ہے اور اس مختصر اور ضمنی نوٹ میں تفصیل کی گنجائش نہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ معجزات اور آیات کا وجود برحق ہے اور اسلام اسے تسلیم کرتا اور ہر نبی اور رسول کے زمانہ میں اس کے ظہور کا دعویٰ فرماتا ہے مگر اول تو کوئی معجزہ خدا کی کسی نہ بدلنے والی سنت یا اس کے کسی وعدہ کے خلاف نہیں ہوسکتا کیونکہ اگر ایسا ہو تو دنیا میں اندھیر پڑ جائے اور قرآن شریف نے صراحت کے ساتھ ایسے معجزات کے وجود سے انکار کیا ہے۔" اور دوم کسی معجزہ میں جو منکرین کو دکھانا مقصود ہو نصف النہار والی روشنی پیدا نہیں ہو سکتی۔کیونکہ یہ ایمان بالغیب کے اصول کے خلاف ہے جسے قرآن شریف نے اپنی ابتدا میں ہی بڑے زور کے ساتھ پیش کیا ہے۔مگر ان دونوں حدود کے اندراندر معجزہ ہو سکتا ہے اور ہر نبی کے زمانہ میں ہوتا رہا ہے اور حق یہ ہے کہ اگر ایسے معجزات کا دروازہ بند ہو جائے تو دنیار وحانی طور پر زندہ ہی نہیں رہ سکتی۔قریش کے ساتھ صلح کی گفتگو کا آغاز معجزات کے متعلق یہ مختصر اور اصولی نوٹ دینے کے بعد ہم پھر اپنے اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہیں۔ہم بتا چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کی وادی میں پہنچ کر اس وادی کے چشمہ کے پاس قیام کیا۔جب صحابہ اس جگہ ڈیرے ڈال چکے تو قبیلہ خزاعہ کا ایک نامور رئیس بدیل بن ورقا نامی جو قریب ہی کے علاقہ میں آباد تھا اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے لئے آیا اور اس نے آپ : سورة البقرة : ۴ دیکھو براہین احمدیہ حصہ پنجم مصنفہ مقدس بانی سلسلہ احمدیہ صفحه ۳۳ : سورۃ الاحزاب : ۶۳ وسورة آل عمران : ۱۰ : سورة البقرة : ۴