سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 835 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 835

۸۳۵ جب اسے مغلوب کر لیا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ سچ سچ بتاؤ تم کون ہو اور کس ارادے سے آئے ہو؟ اس نے کہا میری جان بخشی کی جائے تو میں بتا دوں گا۔آپ نے فرمایا ہاں اگر تم ساری بات سچ سچ بتا دو تو پھر تمہیں معاف کر دیا جائے گا۔جس پر اس نے سارا قصہ من وعن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کر دیا اور یہ بھی بتایا کہ ابوسفیان نے اس سے اس اس قدر انعام کا وعدہ کیا تھا۔اس کے بعد یہ شخص چند دن تک مدینہ میں ٹھہرا اور پھر اپنی خوشی سے مسلمان ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو گیا۔ابوسفیان کی اس خونی سازش نے اس بات کو آگے سے بھی زیادہ ضروری کر دیا کہ مکہ والوں کے ارادے اور نیت سے آگاہی رکھی جائے۔چنانچہ آپ نے اپنے دوصحابی عمرو بن امیہ ضمری اور سلمہ بن اسلم کو مکہ کی طرف روانہ فرمایا اور ابوسفیان کی اس سازش قتل اور اس کی سابقہ خون آشام کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے انہیں اجازت دی کہ اگر موقع پائیں تو بیشک اسلام کے اس حربی دشمن کا خاتمہ کر دیں۔مگر جب امیہ اور ان کا ساتھی مکہ میں پہنچے تو قریش ہوشیار ہو گئے اور یہ دوصحابی اپنی جان بچا کر مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔راستہ میں انہیں قریش کے دو جاسوس مل گئے جنہیں رؤساء قریش نے مسلمانوں کی حرکات وسکنات کا پتہ لینے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کا علم حاصل کرنے کے لئے بھیجا تھا اور کوئی تعجب نہیں کہ یہ تدبیر بھی قریش کی کسی اور خونی سازش کا پیش خیمہ ہومگر خدا کا فضل ہوا کہ امیہ اور سلمہ کو ان کی جاسوسی کا پتہ چل گیا جس پر انہوں نے ان جاسوسوں پر حملہ کر کے انہیں قید کر لینا چاہا مگر انہوں نے سامنے سے مقابلہ کیا۔چنانچہ اس لڑائی میں ایک جاسوس تو مارا گیا اور دوسرے کو قید کر کے وہ اپنے ساتھ مدینہ میں واپس لے آئے۔ہے اس سریہ کی تاریخ کے متعلق مؤرخین میں اختلاف ہے۔ابن ہشام اور طبری اسے ۴ھ میں بیان کرتے ہیں مگر ابن سعد نے اسے ۶ھ میں لکھا ہے اور علامہ قسطلانی اور زرقانی نے ابن سعد کی روایت کو ترجیح دی ہے لہذا میں نے بھی اسے ۶ھ میں بیان کیا ہے واللہ اعلم۔ابن سعد کی روایت کے مفہوم کی تائید بیہقی نے بھی کی ہے۔مگر اس میں اس واقعہ کے زمانہ کا پتہ نہیں چلتا۔ابن سعد جلد ۲ صفحه ۶۸ وزرقانی جلد ۲ حالات سریہ عمرو بن امیہ ضمری ابن سعد جلد ۲ صفحه ۶۸ وزرقانی جلد ۲ صفحه ۱۷۸ وابن ہشام جلد ۳ صفحه ۹۰،۸۹ و طبری جلد ۳ صفحه ۱۴۳۷ تا صفحه ۱۴۴۱ ۳ : زرقانی جلد ۲ صفحہ ۱۷۷