سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 832 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 832

۸۳۲ کا معاملہ کریں گے اور ممکن ہے کہ تمہیں خیبر کا باقاعدہ رئیس تسلیم کر لیا جائے یا اُسیر کو جو سخت جاہ طلب تھا یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے دل میں کوئی اور نیت مخفی ہو یہ تجویز پسند آئی اور کم از کم اس نے یہ ظاہر کیا کہ مجھے یہ تجویز پسند ہے مگر ساتھ ہی اس نے خیبر کے یہودی عمائد کو جمع کر کے ان سے مشورہ مانگا کہ مسلمانوں کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی ہے اس کے متعلق کیا کیا جائے۔یہود نے جو اسلام کے خلاف عامیانہ عداوت میں اندھے ہورہے تھے عام طور پر اس تجویز کی مخالفت کی اور اُسیر کو اس ارادے سے باز رکھنے کی غرض سے کہا کہ ہمیں امید نہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہیں خیبر کا امیر تسلیم کریں مگر اسیر جو حالات سے زیادہ واقف تھا اپنی بات پر قائم رہا اور کہنے لگا " تم نہیں جانتے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس جنگ سے تنگ آیا ہوا ہے اور دل سے چاہتا ہے کہ جس طرح ہو اس لڑائی کا سلسلہ رک جائے ہے الغرض اسیر بن رزام عبد اللہ بن رواحہ کی پارٹی کے ساتھ مدینہ چلنے کے لئے تیار ہو گیا اور عبداللہ بن رواحہ کی طرح خود اس نے بھی تمہیں یہودی اپنے ساتھ لے لئے۔جب یہ دونوں پارٹیاں خیبر سے نکل کر ایک مقام قر قرہ میں پہنچیں جو خیبر سے چھ میل کے فاصلہ پر تھا یا تو اسیر کی نیت بدل گئی یا اگر اس کی نیت پہلے سے خراب تھی تو یوں سمجھنا چاہئے کہ اس کے اظہار کا وقت آ گیا۔چنانچہ اس نے باتیں کرتے کرتے بڑی ہوشیاری کے ساتھ مسلمانوں کی پارٹی کے ایک معزز فرد عبداللہ بن انیس انصاری کی تلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا۔عبداللہ فوراً تاڑ گئے کہ اس بد بخت کے تیور بدلے ہوئے ہیں۔چنانچہ انہوں نے جھٹ اپنی اونٹنی کو ایڑ لگا کر اسے آگے کر لیا اور پھر اُسیر کی طرف گھوم کر آواز دی کہ اے دشمن خدا کیا تم ہمارے ساتھ غداری کرنا چاہتے ہو؟ عبداللہ بن انیس نے دو دفعہ یہ الفاظ دہرائے۔مگر اسیر نے کوئی جواب نہیں دیا نے اور نہ ہی اس نے اپنی کوئی بریت کی بلکہ وہ سامنے سے جنگ کے لئے تیار تھا۔یہ غالباً یہودیوں میں پہلے سے مقرر شدہ اشارہ تھا کہ ایسا موقع آئے تو سب مل کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑیں۔چنانچہ اسی جگہ عین راستہ میں مسلمانوں اور یہودیوں میں تلوار چل گئی۔اور گو دونوں پارٹیاں تعداد میں برابر تھیں اور یہودی لوگ پہلے سے ذہنی طور پر تیار تھے اور مسلمان بالکل بے ارادہ تھے مگر خدا کا ایسا فضل ہوا کہ بعض مسلمان زخمی تو بیشک ہوئے مگر ان میں سے کسی جان کا نقصان نہیں ہوا لیکن دوسری طرف سارے یہودی اپنی : ابن سعد وابن ہشام وزرقانی : ابن سعد سيرة حلبیہ جلد ۳ حالات سریہ عبداللہ بن رواحہ ابن ہشام ۵ : ابن سعد وابن ہشام ابن سعد