سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 812 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 812

۸۱۲ صحاح کی روایت جو سند کے ساتھ بیان کی گئی ہے اور ایک شریک واقعہ کی زبان سے مروی ہے بہر حال ابن سعد اور ابن ہشام کی غیر مستند روایت سے قابل ترجیح ہے اس لئے اس بات میں ہرگز کوئی شبہ نہیں رہتا کہ ام قرفہ کے ظالمانہ قتل کا واقعہ ایک بالکل جھوٹا اور بے بنیاد واقعہ ہے جو کی مخفی دشمن اسلام اور منافق کی مہربانی سے بعض تاریخی روایتوں میں راہ پا گیا ہے اور حق یہ ہے کہ اس سریہ کی حقیقت اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں جو مسلم اور ابو داؤد نے بیان کی ہے۔کسی غلط واقعہ کا تاریخ میں درج ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ اس قسم کی مثالیں ہر قوم اور ہر ملک کی تاریخ میں ملتی ہیں۔لیکن یہ ضرور ایک تعجب کی بات ہے کہ سرولیم جیسا انسان اس غلط واقعہ کو بغیر کسی تحقیق کے اپنی کتاب میں جگہ دے اور اس بات کا برملا اعتراف کرے کہ اس کے اندارج کی وجہ محض یہ ہے کہ اس سے مسلمانوں کے ایک ظالمانہ فعل کی مثال ملتی ہے۔اہل خیبر کی شرارت اور ابورافع یہودی کا جن یہودی رؤساء کی مفسدانہ انگیخت اشتعال انگیزی سے ۵ ہجری کے آخر میں مسلمانوں قتل رمضان ۶ ہجری مطابق جنوری ۶۲۸ء کے خلاف جنگ احزاب کا خطرناک فتنہ بر پا ہوا تھا ان میں سے حیی بن اخطب تو بنو قریظہ کے ساتھ اپنے کیفر کردار کو پہنچ چکا تھا لیکن سلام بن ابی الحقیق جس کی کنیت ابورافع تھی ابھی تک خیبر کے علاقہ میں اسی طرح آزاد اور اپنی فتنہ انگیزی میں مصروف تھا بلکہ احزاب کی ذلت بھری نا کامی اور پھر بنو قریظہ کے ہولناک انجام نے اس کی عداوت کو اور بھی زیادہ کر دیا تھا اور چونکہ قبائل غطفان کا مسکن خیبر کے قریب تھا اور خیبر کے یہودی اور نجد کے قبائل آپس میں گویا ہمسائے تھے اس لئے اب ابورافع نے جو ایک بہت بڑا تاجر اور امیر کبیر انسان تھا دستور بنالیا تھا کہ نجد کے وحشی اور جنگجو قبائل کو مسلمانوں کے خلاف اکساتا رہتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت میں وہ کعب بن اشرف کا پورا پورا مثیل تھا۔چنانچہ اس زمانہ میں جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس نے غطفانیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حملہ آور ہونے کے لئے اموال کثیر سے امداد دی تھی اور تاریخ سے ثابت ہے کہ ماہ شعبان میں بنو سعد کی طرف سے جو خطرہ مسلمانوں کو پیدا ہوا تھا اور اس کے سد باب کے لئے حضرت علی کی کمان میں ایک فوجی دستہ مدینہ سے روانہ کیا گیا تھا اس کی تہ میں بھی خیبر کے یہودیوں کا ہاتھ تھا کے جوابو رافع کی قیادت میں یہ سب شرارتیں کر رہے تھے۔: ابن ہشام جلد ۲ صفحه ۱۶۲ : ابن سعد جلد ۲ صفحه ۶۵ : فتح الباری جلدے صفحہ ۲۶۳