سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 811
All کو یونہی بلا سند بیان کیا ہے وہاں امام مسلم اور ابو داؤد نے اپنی روایتوں کو پوری پوری سند دی ہے اور ویسے بھی محدثین کی احتیاط کے مقابلہ میں جنہوں نے انتہائی احتیاط سے کام لیا ہے مؤرخین کی عام روایت کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔صحیح مسلم اور سنن ابو داؤد میں یہ واقعہ جس طرح بیان ہوا ہے وہ اوپر درج کیا جا چکا ہے۔اس میں ام قرفہ کے قتل کا ذکر تک نہیں ہے۔بیشک مسلم اور ابوداؤد کی روایت میں ام قرفہ کا نام مذکور نہیں ہے اور امیر کا نام بھی زید کی بجائے ابو بکر درج ہے مگر اس کی وجہ سے یہ شبہ نہیں کیا جاسکتا کہ یہ مہم اور ہے کیونکہ باقی جملہ اہم تفصیلات ایک ہیں۔مثلاً : -1 دونوں روایتوں میں یہ تصریح ہے کہ یہ ہم بن فزارہ کے خلاف تھی۔دونوں میں یہ ذکر موجود ہے کہ بنو فزارہ کی رئیس ایک بوڑھی عورت تھی۔دونوں میں اس عورت کے قید کئے جانے کا ذکر ہے۔دونوں میں یہ ذکر ہے کہ اس عورت کی ایک لڑکی بھی تھی جو ماں کے ساتھ قید ہوئی۔۵۔دونوں میں یہ ذکر ہے کہ یہ لڑ کی سلمہ بن اکوع کے حصہ میں آئی تھی۔اس کے علاوہ اور بھی بعض باتوں میں اشتراک ہے۔اب غور کرو کہ کیا ان اہم اور بنیادی اشتراکات کے ہوتے ہوئے کوئی شخص شبہ کر سکتا ہے کہ یہ دوالگ الگ واقعات ہیں۔مگر ہم صرف عقلی استدلال پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ گذشتہ محققین نے بھی صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ صحیح مسلم اور سنن ابو داؤد میں وہی واقعہ بیان ہوا ہے جو ابن سعد نے دوسرے رنگ میں درج کیا ہے۔چنانچہ علامہ زرقانی اور امام سہیلی اور علامہ حلبی سے نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ یہ وہی واقعہ ہے جوا بن سعد اور ابن اسحاق نے ام قرفہ والے قصہ میں غلط طور پر بیان کیا ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر اس بات کا ثبوت کہ یہ وہی واقعہ ہے یہ ہے کہ طبری نے ان دونوں روایتوں کو پہلو بہ پہلو بیان کر کے اس بات کی صراحت کی ہے کہ یہ دونوں ایک ہی واقعہ ہیں ہے الغرض یہ بات بالکل یقینی ہے کہ مسلم اور ابوداؤد کی سلمہ بن اکوع والی روایت میں وہی واقعہ بیان کیا گیا ہے جسے ابن سعد اور ابن ہشام نے اُم قرفہ کے سریہ کے نام سے غلط طور پر درج کیا ہے اور چونکہ شرح مواهب جلد ۲ صفحه ۱۶۴ : سيرة حلبیہ جلد ۳ حالات سریہ ابوبکرالی بنی فزارہ ہے : طبری طبع یورپ جلد ۳ صفحه ۱۵۵۷ تا ۱۵۵۹ نیز صفحه۱۵۹۲ الروض الانف جلد ۲ صفحه ۳۶۱