سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 807
۸۰۷ سازشوں کا اڈہ بن گئی تھی اور اس جگہ کے یہودی جو عادة سخت کینہ ور اور حاسد و ظالم واقع ہوئے تھے اسلام کومٹانے اور مسلمانوں کو نیست نابود کرنے کی کوشش میں سرگرم رہتے تھے۔چنانچہ بالآخر یہی حالات جنگ خیبر کا باعث بن گئے جوے ہجری کے ابتداء میں وقوع میں آئی اور جس کے نتیجہ میں خیبر کا علاقہ اسلامی حکومت میں شامل ہو گیا۔اب جس واقعہ کا ہم ذکر کرنے لگے ہیں وہ بھی اسی سلسلہ میں منسلک ہے۔شعبان ۶ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ قبیلہ بنوسعد بن بکر اور خبیر کے یہودیوں میں مسلمانوں کے خلاف باہم سرگوشیاں ہورہی ہیں اور یہ کہ بنو سعد اہل خیبر کی اعانت میں اپنی طاقتوں کو جمع کر رہے ہیں۔اس اطلاع کے ملتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کی کمان میں صحابہ کا ایک دستہ روانہ فرمایا جو دن کو چھپتے اور رات کو سفر کرتے ہوئے فدک کے پاس پہنچ گئے جس کے قریب یہ لوگ جمع ہورہے تھے۔یہاں مسلمانوں کو ایک بدوی شخص ملا جو بنو سعد کا جاسوس تھا۔حضرت علیؓ نے اسے پکڑ کر قید کر لیا اور اس سے بنو سعد اور اہل خیبر کے حالات دریافت کئے۔پہلے تو اس نے بالکل لاعلمی اور بے تعلقی کا اظہار کیا مگر آخر وعدہ معافی لے کر اس نے سارا راز کھول دیا اور پھر مسلمان لوگ اس شخص کو اپنا گائیڈ بنا کر اس جگہ کی طرف بڑھے جہاں بنو سعد جمع ہورہے تھے اور اچانک حملہ کر دیا۔اس اچانک حملہ کی وجہ سے بنو سعد گھبرا کر میدان سے بھاگ نکلے اور حضرت علی مال غنیمت لے کر مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے اور اس طرح یہ خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے سریہ حضرت ابوبکر بطرف بنو فزارہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کا ایک دستہ حضرت ابوبکر کی کمان میں بنوفزارہ کی طرف روانہ فرمایا۔یہ قبیلہ اس وقت مسلمانوں کے خلاف برسر پر کار تھا اور اس دستہ میں سلمہ بن اکوع بھی شامل ہوئے جو مشہور تیرانداز اور دوڑنے میں خاص مہارت رکھتے تھے۔سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں کہ ہم صبح کی نماز کے قریب اس قبیلہ کی قرارگاہ کے پاس پہنچے اور جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت ابو بکر نے ہمیں حملہ کا حکم دیا۔ہم قبیلہ فزارہ سے لڑتے ہوئے ان کے چشمہ تک جا پہنچے اور مشرکین کے کئی آدمی مارے گئے جس کے بعد وہ میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے اور ہم نے کئی آدمی قید کر لئے۔سلمہ روایت کرتے ہیں کہ بھاگنے والے لوگوں میں ایک پارٹی بچوں اور عورتوں کی تھی جو جلدی جلدی ایک قریب کی پہاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی۔میں نے ان کے اور پہاڑی کے درمیان تیر پھینکنے شروع کئے۔جس پر یہ پارٹی خائف ہوکر : ابن سعد جلد ۲ صفحه ۶۵ ابن سعد جلد ۲ صفحه ۶۵ و زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۶۲