سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 804 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 804

۸۰۴ اس غرض وغایت کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ شعبان ۶ھ میں ایک فوجی دستہ عبدالرحمن بن عوف کی کمان میں دومۃ الجندل کے دور دراز مقام کی طرف روانہ فرمایا یے ناظرین کو یاد ہوگا کہ اسی جگہ کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ۴ ھ میں قیام امن کی غرض سے تشریف لے گئے تھے اور اس طرح یہ علاقہ آج سے دو سال قبل اسلامی دائرہ اثر میں داخل ہو چکا تھا اور وہاں کے باشندے اسلامی تعلیم سے غیر مانوس نہیں رہے تھے بلکہ غالبا ان میں سے ایک حصہ اسلام کی طرف مائل تھا مگر اپنے رؤساء اور اہل قبیلہ کی مخالفت کی وجہ سے جرات نہیں کر سکتے تھے۔بہر حال آپ نے ہجری کے چھٹے سال میں ایک بڑا فوجی دستہ عبدالرحمن بن عوف کی امارت میں جو کبار صحابہ میں سے تھے دومۃ الجندل کی طرف روانہ فرمایا۔اس سریہ کی تیاری اور روانگی کے متعلق ابن اسحاق نے عبداللہ ابن عمر سے یہ دلچسپ روایت نقل کی ہے کہ ایک دفعہ جب ہم چند لوگ جن میں حضرت ابو بکر اور عمر اور عثمان اور علی اور عبد الرحمن بن عوف بھی شامل تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے ، ایک انصاری نوجوان نے حاضر ہو کر آپ سے دریافت کیا کہ 'یا رسول اللہ ! مومنوں میں سے سب سے افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا۔” وہ جو اخلاق میں سب سے افضل ہے۔“ اس نے کہا اور یا رسول اللہ ! سب سے زیادہ متقی کون ہے ، آپ نے فرمایا ” وہ جو موت کو زیادہ یا درکھتا اور اس کے لئے وقت سے پہلے تیاری کرتا ہے۔اس پر وہ انصاری نوجوان خاموش ہو گیا اور آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے مہاجرین کے گروہ! پانچ بدیاں ایسی ہیں جن کے متعلق میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ کبھی میری امت میں پیدا ہوں کیونکہ وہ جس قوم میں رونما ہوتی ہیں اسے تباہ کر کے چھوڑتی ہیں۔اول: یہ کہ کبھی کسی قوم میں فاحشہ اور بدکاری نہیں پھیلی اس حد تک کہ وہ اسے برملا کر نے لگ جائیں کہ اس کے نتیجہ میں ایسی بیماریاں اور وبائیں نہ ظاہر ہونی شروع ہوگئی ہوں جوان سے پہلے لوگوں میں نہیں تھیں۔دوم : کبھی کسی قوم میں تول اور ناپ میں بد دیانتی کرنے کی بدی نہیں پیدا ہوئی کہ اس کے نتیجہ میں اس قوم پر قحط اور محنت اور شدت اور حاکم وقت کے ظلم وستم کی مصیبت نازل نہ ہوئی ہو۔سوم : کبھی کسی قوم نے زکوۃ اور صدقات کی ادائیگی میں ستی و غفلت نہیں اختیار کی کہ اس کے نتیجہ ا یہ لفظ دال کی زیر سے بھی بولا جاتا ہے ابن سعد