سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 786
ZAY کرنے کے متعلق فرماتے ہیں: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لَاهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لَاهْلِي یعنی ” تم میں سے خدا کے نزدیک بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں سب سے بہتر ہے اور خدا کے فضل سے میں تم سب میں اپنی بیویوں کے ساتھ 66 بہتر سلوک کرنے والا ہوں۔“ اور اس بارے میں قرآن شریف یہ ارشاد فرماتا ہے کہ : عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَلَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيرًاO یعنی اے مسلمانو! اپنی بیویوں کے ساتھ بہت نیک سلوک کیا کرو اور اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو نا پسند بھی کرتا ہو تو پھر بھی یاد رکھو کہ ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند نہ کرو مگر خدا نے اس میں تمہارے لئے انجام کے لحاظ سے بہت بڑی خیر مقدر کر رکھی ہو۔“ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلام نے مساوات انسانی کے متعلق بہترین تعلیم دی ہے۔چنانچہ (۱) سب سے پہلے اس نے اس اصول کو بیان کیا ہے کہ سب لوگ ایک ہی جنس کی مخلوق اور ایک ہی باپ کی نسل اور ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں اس لئے نسلی لحاظ سے سب کا حق برابر ہے۔(۲) اس کے بعد اس نے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ نسلی وحدت کے باوجود یہ ممکن ہے کہ جس طرح زمین کے پیٹ میں ایک ہی قسم کے عناصر مختلف قسم کی صورتیں اور مختلف قسم کے خواص اختیار کر کے مختلف قسم کی معدنیات کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اسی طرح مختلف انسان بھی بعد کے حالات کی وجہ سے مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم ہو کر مختلف اوصاف اختیار کر سکتے ہیں مگر اس فرق کی وجہ سے کسی قوم یا کسی قبیلہ یا کسی فرد کوکسی دوسرے پر بے جافخر اور تکبر نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ممکن ہے کہ جو قوم یا جوشخص آج نیچے ہے وہ کل کو اوپر ہو جائے۔(۳) اس کے بعد اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ اس وحدت نسلی کے علاوہ مسلمان خصوصیت کے ساتھ ایک دوسرے کے بھائی ہیں کیونکہ وہ ایک ہی ایمان کے حامل اور ایک ہی دامن رسالت سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ایک ہی روحانی باپ کے بچے ہیں۔پس انہیں ہر حال میں بھائی بھائی بن کر رہنا چاہئے۔(۴) اس کے بعد اسلام یہ بتاتا ہے کہ بے شک مومنوں میں بھی فرق ہو سکتا ہے مگر یہ فرق ان کے ذاتی بخاری کتاب النکاح : سورة النساء : ۲۰