سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 714 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 714

۷۱۴ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ' یعنی ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ حکومت کی امانت تم اس کے اہل لوگوں کے سپر د کیا کرو اور پھر جو لوگ اس طرح حاکم منتخب ہوں انہیں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ وہ لوگوں میں عدل وانصاف کے ساتھ حکومت کریں۔اس اصولی آیت میں حکومت کے حق کو امانت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ دراصل حکومت کا حق سب لوگوں کا مشترکہ حق ہے اور خاص افراد کو جمہور کی طرف سے ایک امانت کے طور پر ملتا ہے۔پس جس شخص کو حکومت ملے اسے سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک امانت ہے جو لوگوں کی طرف سے اسے ملی ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ابوذر صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ مجھے کسی علاقے کا امیر مقرر فرما دیں۔اس پر آپ نے فرمایا: يَا اَبَاذَرٍ إِنَّكَ ضَعِيفٌ وَإِنَّهَا اَمَانَةٌ وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيْهَا۔یعنی اے ابوذرا تم ایک ضعیف انسان ہو اور حکومت ایک امانت ہے اور قیامت کے دن وہ ذلت و ندامت کا موجب ہو گی سوائے اس شخص کے جو اس کے پورے پورے حقوق ادا کرے۔‘ اس حدیث میں حکومت کو امانت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی یہ حکومت کا حق صرف جمہور کو حاصل ہے اور کسی خاص فرد کو اس کا حق جمہور کی طرف سے صرف ایک امانت کے طور پر ملتا ہے۔چونکہ حکومت ایک امانت ہے اس لیے حاکم اعلیٰ کا تقرر تو الگ رہاما تحت حکام کے تقرر میں بھی اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ کسی ایسے شخص کو حاکم مقرر نہ کیا جاوے جو خو د حکومت کا خواہشمند ہو۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: إِنَّاوَ اللَّهِ لَا نُوَلَّى هَذَا الْعَمَلَ أَحَدًا سَأَلَهُ وَلَا أَحَدًا حَرِصَ عَلَيْهِ E یعنی ”خدا کی قسم ہم کبھی ایسے شخص کو حکومت کا کوئی عہدہ نہیں دیں گے جو خود اس عہدہ کو طلب کرے یا اس کا خواہشمند ہو۔“ جو لوگ لوگوں کے مشورہ سے حاکم منتخب ہوں ان کی ہدایت کے لیے اسلام میہ اصولی تعلیم ارشادفرماتا ہے: حکومت کے لیے مشورہ ضروری ہے وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ ا: سورۃ نساء : ۵۹ سے مسلم کتاب الامارة بابِ النَّهُى عَنْ طَلَبِ الْآمَارَةِ صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب كراهية الامارة