سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 715 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 715

۷۱۵ وَمِمَّا رَزَقْنُهُمْ يُنْفِقُونَ LO یعنی ” مومنوں کا یہ کام ہے کہ وہ خدا کی پوری پوری فرمانبرداری اختیار کریں اور اس کی عبادت پر قائم رہیں اور حکومت کے امور باہم مشورہ کے ساتھ طے کریں اور جو اموال خدا نے انہیں دئے ہیں انہیں لوگوں پر خرچ کریں اس آیت میں حاکم کا یہ فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ امیر منتخب ہونے کے بعد خود مختارانہ اور جابرانہ طریق اختیار نہ کرے بلکہ اس اصول کو یا در کھتے ہوئے کہ اس کی حکومت اس کے پاس محض ایک امانت ہے رائے عامہ کو معلوم کرتا رہے اور لوگوں کے مشورہ کے ساتھ حکومت کے فرائض سر انجام دے۔چنانچہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ " یعنی اے نبی تم حکومت کے معاملات میں لوگوں سے مشورہ لیا کرو۔مگر مشورہ کے بعد جب تم کوئی رائے قائم کر لو تو پھر اللہ پر توکل کرو۔“ یہ ہدایت قرآنی محاورہ کے مطابق صرف آپ ہی کے لیے نہیں ہے بلکہ آپ کے خلفاء اور متبعین کے لیے بھی ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ طریق حکومت کے معاملہ میں اسلام صرف دو اصولی ہدا یتیں دیتا ہے۔اوّل یہ کہ حکومت کا حق سب لوگوں کا مشترک حق ہے اور ایسی صورت میں لوگوں کو چاہیے کہ اپنے میں سے بہترین شخص کو باہم مشورے کے ساتھ امیر منتخب کیا کریں۔دوسرے یہ کہ جو شخص امیر بنے اور حکومت کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں آئے اس کا فرض ہے کہ اس امانت کو حق و انصاف کے ساتھ ادا کرے اور سیاست و حکومت کے جملہ اہم امور لوگوں کے مشورہ کے ساتھ سرانجام دے۔گویا حکومت کے معاملہ میں اسلام نے ورثہ کے حق کو قطعاً تسلیم نہیں کیا اور نہ اس بات کو جائز رکھا ہے کہ کوئی حاکم رائے عامہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اور مشورہ کے طریق کو چھوڑ کر حکومت میں استبدادی اور خود مختارانہ طریق اختیار کرے لیکن جیسا کہ موجودہ زمانہ میں بھی یہ اصول ویٹو وغیرہ کی صورت میں عام طور پر مسلم ہے اسلام نے استثنائی حالات میں امیر کے لیے یہ حق تسلیم کیا ہے کہ وہ اگر ضروری سمجھے تو کثرت رائے کے مشورہ کو رد کر دے تے مگر اسلامی شریعت کی رو سے امیر بہر حال اس بات کا پابند قرار دیا گیا ہے کہ کوئی اہم معاملہ مشورہ لینے کے بغیر طے نہ کرے حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ثانی حضرت عمر نے جو اسلامی سیاسیات میں نہایت ماہر سمجھے گئے ہیں یہاں تک فرمایا ہے کہ لَا خِلَافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ یعنی کوئی اسلامی حکومت مشورہ کے انتظام کے بغیر جائز تسلیم نہیں کی جاسکتی۔“ : سورة آل عمران : ۱۶۰ : سورۃ شوری : ۳۹ : سورة آل عمران : ۱۶۰ : إِزَالَةُ الْخِفَاءِ عَنْ خِلَافَةِ الْخُلَفَاءِ