سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 679 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 679

۶۷۹ بالکل محو ہو جاوے اور بالآخر سعد کا اپنے فیصلہ کے اعلان سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا پختہ عہد لے لینا کہ بہر حال اس فیصلہ کے مطابق عمل ہوگا۔یہ ساری باتیں اتفاقی نہیں ہوسکتیں اور یقیناً اس کی تہ میں خدائی تقدیر اپنا کام کر رہی تھی اور یہ فیصلہ خدا کا تھا نہ کہ سعد کا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنو قریظہ کی بدعہدی اور غداری اور بغاوت اور فتنہ و فساد اور قتل و خونریزی کی وجہ سے خدائی عدالت سے یہ فیصلہ صادر ہو چکا تھا کہ ان کے جنگجولوگوں کو دنیا سے مٹا دیا جاوے۔چنانچہ ابتداء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس غزوہ کے متعلق غیبی تحریک ہونا بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک خدائی تقدیر تھی۔مگر خدا کو یہ منظور نہ تھا کہ اس کے رسول کے ذریعہ سے یہ فیصلہ جاری ہو اور اس لئے اس نے نہایت پیچ در پیچ غیبی تصرفات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بالکل الگ رکھا اور سعد بن معاذ کے ذریعہ اس فیصلہ کا اعلان کروایا اور فیصلہ بھی ایسے رنگ میں کروایا کہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس میں بالکل دخل نہیں دے سکتے تھے کیونکہ آپ وعدہ فرما چکے تھے کہ آپ بہر حال اس فیصلہ کے پابند رہیں گے اور پھر چونکہ اس فیصلہ کا اثر بھی صرف آپ کی ذات پر نہیں پڑتا تھا بلکہ تمام مسلمانوں پر پڑتا تھا اس لئے آپ اپنا یہ حق نہیں سمجھتے تھے کہ اپنی رائے سے خواہ وہ کیسی ہی عفو ورحم کی طرف مائل ہو اس فیصلہ کو بدل دیں یہی خدائی تصرف تھا جس کی طاقت سے متاثر ہو کر آپ کے منہ سے بے اختیار طور پر یہ الفاظ نکلے کہ قَدْ حَكَمْتَ بِحُكْمِ اللهِ یعنی اے سعد! تمہارا یہ فیصلہ تو خدائی تقدیر معلوم ہوتی ہے جس کے بدلنے کی کسی کو طاقت نہیں۔یہ الفاظ کہہ کر آپ خاموشی سے وہاں سے اٹھے اور شہر کی طرف چلے آئے اور اس وقت آپ کا دل اس خیال سے دردمند ہو رہا تھا کہ ایک قوم جس کے ایمان لانے کی آپ کے دل میں بڑی خواہش تھی اپنی بد کردار یوں کی وجہ سے ایمان سے محروم رہ کر خدائی قہر و عذاب کا نشانہ بن رہی ہے اور غالباً اسی موقع پر آپ نے یہ حسرت بھرے الفاظ فرمائے کہ لَوْامَنَ بِي عَشَرَةٌ مِنَ الْيَهُودِ لَا مَنَتْ بِيَ الْيَهُودُ يعنى اگر یہود میں سے مجھ پر دس آدمی یعنی دس بارسوخ آدمی بھی ایمان لے آتے تو میں خدا سے امید رکھتا تھا کہ یہ ساری قوم مجھے مان لیتی۔اور خدائی عذاب سے بچ جاتی۔وہاں سے اٹھتے ہوئے آپ نے یہ حکم دیا کہ بنو قریظہ کے مردوں اور عورتوں اور بچوں کو علیحدہ علیحدہ کر دیا جاوے۔چنانچہ دونوں گروہوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے مدینہ میں لایا گیا اور شہر میں دو الگ الگ ا بخاری باب اتیان الیہود النبی صلعم