سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 678 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 678

۶۷۸ ،، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آگے بڑھے تو آپ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا ”سعد! بنوقریظہ نے تمہیں حکم مانا ہے اور ان کے متعلق جو تم فیصلہ کرو انہیں منظور ہوگا۔اس پر سعد نے اپنے قبیلے اوس کے لوگوں کی طرف نظر اٹھا کر کہا عَلَيْكُمْ بِذَالِكَ عَهْدُ اللَّهِ وَمِيْثَاقَهُ إِنَّ الْحُكْمَ فِيهِمْ بِمَا حَكَمُتُ ـ " کیا تم خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ پختہ عہد کرتے ہو کہ تم بہر حال اس فیصلہ پر عمل کرنے کے پابند ہو گے جو میں بنو قریظہ کے متعلق کروں؟ لوگوں نے کہا ہاں ہم وعدہ کرتے ہیں۔پھر سعد نے اس جہت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے کہا۔وَعَلَى مَنْ هَهُنَا۔یعنی وہ صاحب جو یہاں تشریف رکھتے ہیں کیا وہ بھی ایسا ہی وعدہ کرتے ہیں کہ وہ بہر حال میرے فیصلہ کے مطابق عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں وعدہ کرتا ہوں کے اس عہد و پیمان کے بعد سعد نے اپنا فیصلہ سنایا جو یہ تھا کہ بنو قریظہ کے مقاتل یعنی جنگجو لوگ قتل کر دئے جائیں اور ان کی عورتیں اور بچے قید کر لئے جائیں اور ان کے اموال مسلمانوں میں تقسیم کر دئے جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ سنا تو بے ساختہ فرمایا۔لَقَدْ حَكَمْتَ بِحُكْمِ اللهِ - یعنی " تمہارا یہ فیصلہ ایک خدائی تقدیر ہے۔جو ٹل نہیں سکتی اور ان الفاظ سے آپ کا یہ مطلب تھا کہ بنو قریظہ کے متعلق یہ فیصلہ ایسے حالات میں ہوا ہے کہ اس میں صاف طور پر خدائی تصرف کام کرتا ہوا نظر آتا ہے اور اس لئے آپ کا جذ بہ رحم اسے روک نہیں سکتا اور یہ واقعی درست تھا کیونکہ بنوقریظہ کا ابولبابہ کو اپنے مشورہ کے لئے بلانا اور ابولبابہ کے منہ سے ایک ایسی بات نکل جانا جو سراسر بے بنیاد تھی اور پھر بنوقریظہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ماننے سے انکار کرنا اور اس خیال سے کہ قبیلہ اوس کے لوگ ہمارے حلیف ہیں اور ہم سے رعایت کا معاملہ کریں گے سعد بن معاذ رئیس اوس کو اپنا حکم مقرر کرنا۔پھر سعد کا حق وانصاف کے رستے میں اس قدر پختہ ہو جانا کہ عصبیت اور جتھہ داری کا احساس دل سے بخاری کتاب المغازی حالات غزوہ بنوقریظہ عن ابی سعید خدری : مؤرخین لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ وعدہ لیتے ہوئے سعد کو یہ جرات نہیں ہوئی کہ آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیں یا آپ سے مخاطب ہو کر دریافت کریں۔ے ابن ہشام وطبری و کتاب الخراج ابو یوسف صفحه ۱۲۴ بخاری کتاب المغازی حالات غزوہ قریطه