سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 638 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 638

۶۳۸ بے گناہ ہوں تو آپ میری بات میں شک کریں گے اور اگر میں اپنے آپ کو اس معاملہ میں گناہ گار مان لوں حالانکہ میرا خدا جانتا ہے کہ میں بے گناہ ہوں تو آپ مجھے سچا جانیں گے۔خدا کی قسم مجھے تو اپنا معاملہ یوسف کے باپ کا سا نظر آتا ہے جس نے یہ کہا تھا کہ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ۔” پس میرے لئے بھی صبر ہی بہتر ہے اور میں صرف خدا ہی کی مدد چاہتی ہوں ان باتوں کے متعلق جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔یہ کہہ کر میں اپنی جگہ پر دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گئی اور اس وقت میرے دل میں یہ یقین تھا کہ میں چونکہ بے گناہ ہوں اللہ تعالیٰ ضرور جلد میری بریت ظاہر فرمائے گا۔مگر مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ میری بریت میں کوئی قرآنی وحی نازل ہوگی اور خدا تعالیٰ اپنے صریح کلام میں میرے بے گناہ ہونے کو ظاہر فرمائے گا بلکہ میں سمجھتی تھی کہ شائد اس بارہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی رؤیا وغیرہ دکھائی جاوے مگر خدا کی قسم آپ ابھی اس مجلس سے اٹھنے نہیں پائے تھے اور نہ گھر کا کوئی اور شخص اٹھ کر باہر گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ حالت طاری ہوگئی جو وحی کے وقت ہوا کرتی تھی اور باوجو د سردی کے آپ کے چہرہ سے پسینہ کے قطرے ٹیکنے لگ گئے اور تھوڑی دیر کے بعد وہ حالت جاتی رہی اور آپ نے تبسم فرماتے ہوئے میری طرف دیکھا اور فرمایا عائشہ! خدا نے تمہاری بریت ظاہر فرما دی ہے۔جس پر میری ماں بے اختیار ہو کر بولیں عائشہ ! اٹھو! اور رسول اللہ کا شکر یہ ادا کرو۔“ ( میرا دل چونکہ اس وقت خدا کے شکر سے لبریز تھا ) میں نے کہا میں کیوں آپ کا شکریہ ادا کروں۔میں تو صرف اپنے رب کی شکر گزار ہوں جس نے میری بریت ظاہر فرمائی ہے۔اس وقت سورۃ نور کی وہ دس آیات نازل ہوئی تھیں جو اِنَّ الَّذِينَ جَاء وَ بِالْإِفْكِ سے شروع ہوتی ہیں۔جب میری بریت ظاہر ہوگئی تو میرے والد ابو بکر نے جو بوجہ غربت اور رشتہ داری کے مسطح بن اثاثہ کی با قاعدہ امداد کیا کرتے تھے قسم کھائی کہ جب مسطح نے عائشہ پر جھوٹا اتہام باندھنے میں حصہ لیا ہے تو میں آئندہ اس کی مدد نہیں کروں گا۔مگر اس پر جلد ہی یہ خدائی وحی نازل ہوئی کہ ایسا کرنا بالکل پسند یدہ نہیں ہے جس پر ابوبکر نے وہ وظیفہ پھر جاری کر دیا بلکہ یہ عہد کیا کہ آئندہ میں کبھی یہ وظیفہ بند نہیں کروں گا نیز جبکہ ابھی تک میری بریت ظاہر نہیں ہوئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے متعلق زینب بنت جحش کی رائے بھی دریافت کی تھی اور زینب نے یہ جواب دیا تھا کہ "یا رسول اللہ ! میں تو عائشہ کو ایک نیک اور متقی عورت سمجھتی ہوں۔حالانکہ رسول اللہ کی تمام بیویوں میں سے زینب ہی وہ بیوی تھیں جو میرا مقابلہ کرتیں اور مجھ سے رقابت سے پیش آتی تھیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں بوجہ ان کی پر ہیز گاری کے اس گناہ کے