سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 639 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 639

۶۳۹ گڑھے میں گرنے سے بچالیا۔میں نے حضرت عائشہ صدیقہ کی یہ طویل روایت اس خیال سے درج کی ہے کہ اول تو اس معاملہ میں یہ روایت ساری روایتوں سے مفصل اور مربوط ہے اور جو باتیں دوسرے راویوں کی روایات سے الگ الگ ٹکڑوں کی صورت میں ملتی ہیں وہ اس روایت میں یکجا طور پر جمع ہیں۔علاوہ ازیں اس روایت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی پر ایک ایسی بصیرت افزار روشنی پڑتی ہے جسے کوئی مؤرخ نظر انداز نہیں کر سکتا اور صحت کے لحاظ سے بھی یہ روایت ایسے اعلیٰ ترین مقام پر واقع ہوئی ہے جس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں سمجھی جاسکتی۔اب غور کا مقام ہے کہ یہ کس قدر خطرناک فتنہ تھا جو منافقین کی طرف سے کھڑا کیا گیا۔اس میں صرف ایک پاک دامن اور نہایت درجہ متقی اور پر ہیز گار عورت کی عصمت پر ہی حملہ کرنا مقصود نہ تھا بلکہ بڑی غرض بالواسطہ مقدس بانی اسلام کی عزت کو برباد کرنا اور اسلامی سوسائٹی پر ایک خطر ناک زلزلہ وارد کرنا تھی اور منافقین نے اس گندے اور کمینے پروپیگنڈا کو اس طرح پر چر چا دیا تھا کہ بعض سادہ لوح مگر سچے مسلمان بھی ان کے دام تزویر میں الجھ کر ٹھو کر کھا گئے۔ان لوگوں میں حسان بن ثابت شاعر اور حمنہ بنت جحش ہمشیرہ زینب بنت جحش اور مسطح بن اثاثہ کا نام خاص طور پر مذکور ہوا ہے۔مگر حضرت عائشہ کا یہ کمال اخلاق ہے کہ انہوں نے ان سب کو معاف کر دیا اور ان کی طرف سے اپنے دل میں کوئی رنجش نہیں رکھی۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ اس کے بعد جب کبھی حسان بن ثابت حضرت عائشہ سے ملنے آتے تھے تو وہ بڑی کشادہ پیشانی سے ان سے ملتی تھیں۔ایک دفعہ وہ حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس وقت ایک مسلمان مسروق نامی بھی وہاں موجود تھے۔مسروق نے حیران ہو کر کہا کہ ” ہیں ! آپ حسان کو اپنی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت دیتی ہیں! حضرت عائشہ نے جواب دیا ” جانے دو بیچارہ آنکھوں کی مصیبت میں مبتلا ہو گیا ہے۔یہ کیا کم عذاب ہے۔پھر میں اس بات کو نہیں بھول سکتی کہ حسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں اور کفار کے خلاف شعر کہا کرتا تھا۔چنانچہ حسان کو اجازت دی گئی اور وہ اندر آ کر بیٹھ گئے۔اور حضرت عائشہ کی تعریف میں یہ شعر کہا۔حَصَانٌ رَزَانٌ مَاتُزَنُ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْعَوَافِلِ یعنی وہ ایک پاک دامن عفیفہ خاتون ہیں اور صاحب عقل و دانش ہیں اور ان کی پوزیشن شک وشبہ ا بخاری کتاب المغازی باب حدیث الا فک نیز کتاب التفسیر تفسیر سورۃ نور بخاری حدیث افک