سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 623 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 623

۶۲۳ اکابر صحابہ و تفصیلی علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تردید کا موقع بھی نہیں ملتا تھا اور اندر ہی اندران کا زہر پھیلتا جاتا تھا۔ایسی صورتوں میں بعض بعد میں آنے والے مسلمان جو زیادہ تحقیق و تدقیق کے عادی نہیں تھے انہیں سچا سمجھ کر ان کی روایت شروع کر دیتے تھے اور اس طرح یہ روایتیں واقدی وغیرہ کے ٹائپ کے مسلمانوں کے مجموعہ میں راہ پا گئیں مگر جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے صحیح احادیث میں ان کا نام ونشان تک نہیں پایا جاتا اور نہ تحقین نے انہیں قبول کیا ہے۔حضرت زینب بنت جحش کے قصہ میں سرولیم میور صاحب نے جن سے یقیناً ایک بہتر ذہنیت کی امید کی جاتی تھی واقدی کی غلط اور بناوٹی روایت کو قبول کرنے کے علاوہ اس موقع پر یہ دل آزار طعن بھی کیا ہے کہ گویا بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نفسانی خواہشات بھی ترقی کرتی جاتی تھیں اور آپ کے حرم کی توسیع کو میور صاحب اسی جذ بہ پر مبنی قرار دیتے ہیں۔میں بہ حیثیت ایک مؤرخ کے کسی مذہبی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا مگر تاریخی واقعات کو ایک غلط راستے پر ڈالا جاتا دیکھ کر اس ناگوار اور غیر منصفانہ طریق کے خلاف آواز بلند کرنے سے بھی باز نہیں رہ سکتا۔بے شک یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سے زیادہ شادیاں کیں اور یہ بات بھی مسلمہ تاریخ کا حصہ ہے کہ علاوہ حضرت خدیجہ کے آپ کی ساری شادیاں اس زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں جسے بڑھاپے کا زمانہ کہا جا سکتا ہے مگر بغیر کسی تاریخی شہادت کے بلکہ صریح تاریخی شہادت کے خلاف یہ خیال کرنا کہ آپ کی یہ شادیاں نعوذ باللہ جسمانی خواہشات کے جذبہ کے ماتحت تھیں ایک مؤرخ کی شان سے بہت بعید ہے اور ایک شریف انسان کی شان سے بعید تر۔میور صاحب اس حقیقت سے بے خبر نہیں تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پچیس سال کی عمر میں ایک چالیس سالہ ادھیڑ عمر کی بیوہ عورت ( حضرت خدیجہ ) سے شادی کی اور پھر پچاس سال کی عمر تک اس رشتہ کو اس خوبی اور وفاداری کے ساتھ نباہا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی ہے اور اس کے بعد بھی آپ نے پچپن سال کی عمر تک عملاً صرف ایک بیوی رکھی۔اور یہ بیوی (حضرت سودة ) بھی حسن اتفاق سے ایک بیوہ اور ادھیڑ عمر کی خاتون تھیں یے اور اس تمام عرصہ میں جو جذبات نفسانی کے ہیجان کا مخصوص زمانہ ہے آپ کو کبھی دوسری شادی کا خیال نہیں آیا۔میور صاحب اس تاریخی واقعہ سے بھی ہر گز نا واقف نہیں تھے کہ جب مکہ والوں نے آپ کی تبلیغی مساعی سے تنگ آکر اور ان ا اصابه ورزقانی حالات حضرت خدیجه نیز میور صفحه ۱۰۲٬۲۲ اصابه وزرقانی حالات سوده نیز میور صفحه ۱۱۰،۱۰۹