سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 619
۶۱۹ لحاظ سے یہ عمر ایسی تھی جسے گویا ادھیڑ کہنا چاہئے۔حضرت زینب ایک نہایت متقی اور پرہیز گاراور مخیر خاتون تھیں۔چنانچہ باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں میں صرف زینب ہی وہ بیوی تھیں جو حضرت عائشہ کے ساتھ مقابلہ کرتی اور ان کی ہمسری کا دم بھرتی تھیں۔حضرت عائشہ ان کے ذاتی تقوی وطہارت کی بہت مداح تھیں۔اور اکثر کہا کرتی تھیں کہ میں نے زینب سے زیادہ نیک عورت نہیں دیکھی۔وہ بہت متقی ، بہت راست گو، بہت صلہ رحمی کرنے والی، بہت صدقہ وخیرات کرنے والی اور نیکی اور تقرب الہی کے اعمال میں نہایت سرگرم تھیں۔بس اتنی بات تھی کہ ان کی طبیعت ذرا تیز تھی مگر تیزی کے بعد وہ جلد ہی خود نادم ہو جایا کرتی تھیں۔صدقہ وخیرات میں تو ان کا یہ مرتبہ تھا کہ حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا۔اسرَعُكُنَّ لِحَاقًا بِي اَطْوَلُكُنَّ يَدًا یعنی " تم میں سے جو سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی ہے وہ میری وفات کے بعد سب سے پہلے فوت ہو کر میرے پاس پہنچے گی۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ہم نے اس سے ظاہری ہاتھ سمجھے اور آپس میں اپنے ہاتھ نا پا کرتی تھیں۔لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے زینب بنت جحش کا انتقال ہوا تو تب جا کر ہم پر یہ راز کھلا کہ ہاتھ سے مراد صدقہ وخیرات کا ہاتھ تھا نہ کہ ظاہری ہاتھ۔جیسا کہ اندیشہ کیا جاتا تھا حضرت زینب کی شادی پر منافقین مدینہ کی طرف سے بہت اعتراضات ہوئے اور انہوں نے بر ملا طور پر طعن کئے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کر کے گویا اپنی بہو کو اپنے اوپر حلال کر لیا ہے۔لیکن جبکہ اس شادی کی غرض ہی عرب کی اس جاہلانہ رسم کو مٹا ناتھی تو ان مطاعن کا سننا بھی ناگزیر تھا۔اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ ابن سعد اور طبری وغیرہ نے حضرت زینب بنت جحش کی شادی کے متعلق ایک سرا سر غلط اور بے بنیا دروایت نقل کی ہے اور چونکہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کے خلاف اعتراض کا موقع ملتا ہے اس لئے بعض مسیحی مؤرخین نے اس روایت کو نہایت نا گوار صورت دے کر اپنی کتب کی زینت بنایا ہے۔روایت یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش کی شادی زید کے ساتھ کر دی تو اس کے بعد آپ کسی موقع پر زید کی تلاش میں ان کے بخاری حدیث الا فک بخاری ومسلم بحواله اصا به حالات زینب بنت جحش مسلم جلد ۲ باب فضل عائشہ ۴ : ترندی بحوالہ زرقانی جلد ۳