سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 583
۵۸۳ دسته روانہ فرمایا۔اور اس کی تائید میں ابن سعد نے بھی ایک روایت نقل کی ہے گوا سے دوسری روایت کے مقابل میں ترجیح نہیں دی۔یا مگر بد قسمتی سے بئر معونہ کی تفصیلات میں بخاری کی روایات میں بھی کچھ خلط واقع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے حقیقت پوری طرح متعین نہیں ہو سکتی۔تا مگر بہر حال اس قدر یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر قبائل رعل اور ذکوان وغیرہ کے لوگ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تھے اور انہوں نے یہ درخواست کی تھی کہ چند صحابہ ان کے ساتھ بھجوائے جائیں۔ان دونوں روایتوں کی مطابقت کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ رعل اور ذکوان کے لوگوں کے ساتھ ابوبراء عامری رئیس قبیلہ عامر بھی آیا ہو اس نے ان کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کی ہو۔چنانچہ تاریخی روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ مجھے اہل نجد کی طرف سے اطمینان نہیں ہے اور پھر اس کا یہ جواب دینا کہ آپ کوئی فکر نہ کریں میں اس کا ضامن ہوتا ہوں کہ آپ کے صحابہ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ابو براء کے ساتھ رعل اور ذ کو ان کے لوگ بھی آئے تھے جن کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فکر مند تھے۔واللہ اعلم بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صفرہ ہجری میں منذر بن عمر و انصاری کی امارت میں صحابہ کی ایک پارٹی روانہ فرمائی ہے یہ لوگ عموماً انصار میں سے تھے اور تعداد میں ستر تھے اور قریباً سارے کے سارے قاری یعنی قرآن خوان تھے جو دن کے وقت جنگل سے لکڑیاں جمع کر کے ان کی قیمت پر اپنا پیٹ پالتے اور رات کا بہت سا حصہ عبادت میں گزار دیتے تھے۔جب یہ لوگ اس مقام پر پہنچے جو ایک کنوئیں کی وجہ سے بئر معونہ کے نام سے مشہور تھا تو ان میں سے ایک شخص حرام بن ملحان جوانس بن مالک کے ماموں تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دعوت اسلام کا پیغام لے کر قبیلہ عامر کے رئیس اور ابو براء عامری کے بھتیجے عامر بن طفیل کے پاس آگے گئے اور باقی صحابہ پیچھے رہے۔جب حرام بن ملحان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایچی کے طور پر عامر بن طفیل اور اس کے ساتھیوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے شروع میں تو منافقانہ طور پر آؤ بھگت کی لیکن جب وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور اسلام کی تبلیغ کرنے لگے تو ان میں سے بعض شریروں نے کسی آدمی کو اشارہ کر کے اس بے گناہ ایلچی کو پیچھے کی بخاری کتاب الجہاد باب العون بالمدد و کتاب المغازی ابواب رجیع و بئر معونہ روایت عن قتاده عن انس : ابن سعد جلد ۲ صفحه ۳۸ : ابن سعد وابن ہشام فتح الباری جلد کے صفحہ ۳۰۱،۲۹۶ شرح حالات بئر معونہ بخاری کتاب الجہاد باب العون بالمدد